خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 529
خطبات طاہر جلدا 529 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۹۲ء کا ایک ہی ہے اور ایک ہی رہے گا اور اسی کا نام تو حید خالص ہے ، وہ خلق جو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ہمیں عطا کیا ہے آپ کے معراج کا ہے۔جیسا کہ قرآن میں فرمایا ہے لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ (النور: ۳۶) یہ خدا کا نور مجسم حضرت محمد مصطفی ﷺ ایسا نور ہے جو نہ مشرق کا ہے اور نہ مغرب کا ہے سب میں یکساں۔وہ احمدی جس نے تمام دنیا کو اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دینی ہے اُسے اسی نور سے وابستہ ہونا پڑے گا۔اسی کے قدموں سے وہ تعلیم حاصل کرنی پڑے گی جود نیا کے اخلاق کو چمکاسکتی ہے۔یہ بالکل پرواہ نہ کریں کہ دنیا آپ کو کیا طعنے دیتی ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی تم ان کی ہدایت کے تابع ہو، وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو آپ کے اخلاق کو اور آپ کی زندگیوں کو سنوار سکتی ہیں۔تمام عالم کو ایک ہاتھ پہ اکٹھا کرسکتی ہے۔پس کھانے کے معاملات میں بھی کوئی ایسی بیہودہ بات نہیں ہونی چاہئے جو اسلام پر طعنے کا کسی کو موقع دے۔کھانا کھا ئیں اتنا ڈالیں جتنا آپ کھا سکتے ہیں۔ایسے مطالبے نہ کریں جس کے نتیجے میں آپ کے دوسرے بھائیوں کو تکلیف ہو، ایسے مطالبے نہ کریں جس کے نتیجے میں رزق ضائع ہو۔بعض لوگ روٹیاں اس طرح کھاتے ہیں کچھ بیچ میں سے کھالی اور کچھ کنارے سے پھینک دی۔چن چن کے بعض ٹکڑے کھائے اور بعض ضائع کر دیئے ، یہ سب وہ ضیاع ہیں جو مسلمانوں کو زیب نہیں دیتے۔ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی اگر آج کی ترقی یافتہ قومیں پرواہ کریں تو ساری دنیا کے رزق کے مسائل حل ہو سکتے ہیں مگر پر واہ نہیں کرتے۔پانی ہے تو پانی ضائع کیا جا رہا ہے۔اس کثرت سے پانی ضائع کرتے ہیں کہ میں حیران رہ جاتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح مجھے عادت ہے۔آنحضور ﷺ کی تعلیم کے نتیجے میں کسی ذاتی خوبی کی وجہ سے نہیں تو جس طرح میں پانی سنبھال کر استعمال کرتا ہوں یعنی ٹوٹی بہتی چلی آرہی ہے منہ پر چھینٹے گرے جارہے ہیں۔منہ صاف کر کے دوبارہ ہاتھ آگے بڑھایا۔میں تو یہ کرتا ہوں کہ جہاں تک بس چلے ٹوٹی بند کر کے پھر پانی استعمال کرتا ہوں یا پھر برتن رکھ لیتا ہوں اُس میں پانی ڈال کر اُس سے لیتا ہوں۔اگر سارا انگلستان اس قسم کی نہ کوئی بالکل میرے جیسی عادت اپنا لے کہ پانی کو ضائع نہیں ہونے دینا۔آج تو سیورج کا گندہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں وہ ساری مجبوریاں ختم ہو جائیں، اتنی بیماریوں سے بچیں اور یہ سوچ بھی نہیں صلى الله سکتے۔ان سارے مسائل کا حل چودہ سو سال پہلے حضرت محمدمصطفی ہو دے چکے تھے۔