خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 528 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 528

خطبات طاہر جلد ۱۱ 528 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۹۲ء بنگال غالباً وقف جدید کے دورے پر گئے تھے۔حضرت مولوی ابو العطاء مرحوم صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔ایک جگہ غالباً تر وہ تھی مجھے یاد نہیں بہر حال کھانے پر مجھے پتا لگا کہ یہ جماعت بہت مہمان نواز ہے اور بہت تکلفات سے کام لیتی ہے اس لئے ذرا ہوش کے ساتھ اپنا کھانا کھائیں اور اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں۔حضرت مولوی محمد صاحب مرحوم کو ایک لطیفہ سوجھا۔اُنہوں نے میرے کان میں کہا کہ یہاں رواج یہ ہے کہ اگر مہمان پلیٹ خالی کر دے تو ضرور اُس کو بھرتے ہیں۔میں جانتا ہوں کہ آپ سنت کے پیش نظر پلیٹ ضرور خالی کریں گے اور یہ آپ کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ آپ کی پلیٹ کو دوبارہ نہ بھر دیں اور آپ کو پھر سنت کا خیال آ جائے گا اور آپ پھر خالی کریں گے پھر یہ بھر دیں گے کہاں تک چل سکتے ہیں یہ بات خود سمجھ لیجئے لیکن مولوی ابوالعطاء کو نہ بتانا۔اُن کی خاطر یہ کھیل کھیلی چنانچہ میں نے کہا یہ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔میں نے تو اپنی پلیٹ میں مجبوراً تھوڑا سا چھوڑ دیا کیونکہ یہ ایک ایسی مشکل تھی جس کا حل میرے پاس نہیں تھا۔مجھے تو تکلفاً پوچھا کہ کھائیں گے میں نے کہا بس جزاک اللہ۔میرا پیچھا چھوڑ دیا گیا۔مولوی صاحب نے پلیٹ صاف کی اور اُنہوں نے دوبارہ بھر دی۔مولوی صاحب احتجاج کرتے رہے خدا کا خوف کرو ایک ہی پیٹ ہے میرا میں نے جتنا کھانا تھا کھا لیا۔نہیں ہم جانتے ہیں آپ اور لیجئے۔بڑی مصیبت سے مولوی صاحب نے پلیٹ خالی کی تو دوبارہ لے کر آگئے چاول اور سالن۔مجھے یاد ہے کہ مولوی صاحب نے یوں ہاتھ آگے پھیلا دیئے تھے کہ اُن کی انگلیوں کے بیچ میں سے چاول اور شور بہ گر رہے تھے۔اس حالت پر ہمیں رحم آ گیا جب ان کو سمجھایا کہ یہ قصہ ہے، یہاں کا رواج یہ ہے۔آنحضرت ﷺ کی پاک تعلیم وہاں بھی رائج ہونی چاہئے ایسی مہمان نوازی تعلیم کی حدود سے تجاوز کر جائے۔یہ مہمان نوازی نہیں ضیاع ہے اور اس کے نتیجے میں تکلیفیں بھی پائی جاتی ہیں۔چنانچہ وہیں ہم میں سے ایک کو محسوس ہوا کہ ہوسکتا ہے کہ اس کو پیٹ کی تکلیف ہو جائے اور اُس نے پوچھا کہ اتناز بر دستی کھلا دیا ہے اب اس کا علاج کیا ہے، علاج یہ تھا کہ فلاں کیلا کھائیں اس سے آپ کا پیٹ ٹھیک ہو جائے گا۔اس نے کہا میں بہت کھا چکا ہوں۔کہتے ہیں اس کا علاج بھی اب یہی ہے۔کیلا زیادہ کھائے گا تو اس کا علاج ہے فلاں دہی کھائے گا یہ ٹھیک ہو جائے گا تو یہ بگڑے ہوئے اخلاق ہیں، اخلاق کے نام کچھ ٹیڑھی عادتیں بن گئی ہیں۔مسلمان کا اخلاق خواہ مشرق کا ہو خواہ مغرب