خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 527
خطبات طاہر جلد ۱۱ 527 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۹۲ء یافتہ قوموں سے وابستہ ہونے کے باوجود بھی آج تک وہ ان چیزوں سے محروم ہیں۔صفائی کے جو پاکیزہ تقاضے آنحضور ﷺ نے پورے فرمائے اور جن کو پورا کرنے کی ہمیں باریکی سے تعلیم دی آج بھی دنیا کی بڑی بڑی قومیں اُن سے نا آشنا ہیں یا کل تک نا آشنا تھیں۔دانتوں کی صفائی کو لیجئے ، بدن کی صفائی کو لیجئے ، فراغت کے بعد پانی سے اپنے آپ کو پاک صاف کرنے کا مضمون دیکھ لیجئے ، ہر معاملے میں ۴۰۰ سال پرانا اسلام آج کے زمانے سے زیادہ آ گیہے۔چنانچہ کھانے کے معاملے میں بھی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اتناڈالو جتنا ختم کر سکو اور تمہاری پلیٹ میں زیادہ نہ بچے۔(ترمذی کتاب الاطعمہ حدیث نمبر : ۱۷۲۵) چنانچہ اگر اسی تعلیم کو اپنا لیا جائے تو دنیا سے بہت سے کھانے کا ضیاع ختم ہو سکتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ آج دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کے ہاں بھی اتنا کھانا ضائع ہورہا ہے کہ اگر وہ ضائع شدہ کھانا بھی کسی طریقے سے غریب ملکوں تک پہنچایا جائے تو بڑے ملکوں سے بھوک دور ہوسکتی ہے۔امریکہ میں ایک دن میں جتنا کھانا ضائع ہوتا ہے وہ بعض افریقن ممالک کی سارا سال کی بھوک مٹا سکتا ہے۔کوئی پرواہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا رزق ہے۔کھلا رزق اُن کو عطا ہوا لیکن بالکل خیال نہیں کیا کہ تمام بنی نوع انسان کے لئے یہ رزق عطا ہوا ہے۔اس دنیا کو رزق پیدا کرنے کے لئے جو صلاحیتیں بخشی ہیں صرف ایک قوم کے لئے نہیں ہیں بلکہ ہر انسان کی کم از کم ضرورتیں پوری کرنے کی خاطر ہے۔بس جہاں بچت کی عادت نہ ہو، جہاں ضیاعکے خلاف طبیعت میں ایک رد عمل پیدا نہ ہو، جہاں مزاج ایسے نہ ہوں کہ خدا تعالیٰ کے رزق کا احترام کیا جائے اسے بے وجہ ضائع نہ کیا جائے ، وہاں بڑی سے بڑی ترقی یافتہ قوم بھی ادنی اخلاق کے تقاضوں سے بھی نیچے اتر آتی ہے۔یہ عجیب نظارے آپ کو آج بھی امریکہ میں دکھائی دیں گے کہ وہاں کے لاکھوں بھو کے، افریقہ کو تو چھوڑ دیں ، ہندو پاکستان کی بات نہ کیجئے امریکہ ہی کے لاکھوں بھو کے کوئی ان ڈسٹ بنوں سے جہاں ہر قسم کے گند پھینکے جاتے ہیں کھانے تلاش کر کر کے نکالتے ہیں اور اُس سے اپنی بھوک مٹاتے ہیں۔کوئی جس نہیں ہے کہ اس کھانے کو جو کسی انسان کے کام آ سکتا ہو گندگی میں پھینکنے کے بجائے ایسا نظام جاری کیا جائے کہ جس سے بھو کے استفادہ کر سکیں۔پس حضور اکرم ﷺ نے اس زمانے میں کیسی شاندار تعلیم دی کہ کوئی کھانا ضائع نہیں ہونا چاہئے اور اپنی پلیٹ میں اتنا ڈالو جتنا ختم کر سکو اور صاف پلیٹ چھوڑا کرو۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ