خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 498
خطبات طاہر جلدا 498 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء اُٹھ کر دروازہ کھولنے لگا مگر حضرت صاحب نے پہلے جا کر دروازہ کا کنڈہ کھول دیا اور پھر اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئے۔یہاں واقعہ تو بہت چھوٹا سا ہے لیکن ایک ایسا سبق ہے جو ہماری ساری مہمان نوازی کو الہی رنگ دے سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ بھی فرماتے ہیں کہ مہمان کی تکریم ہونی چاہئے اور میں اس غرض سے اُٹھا ہوں اس صورت میں مہمان نوازی کا سارا سہرا مہمان نواز کے سر باندھا جاتا۔بات وہاں تک رک جاتی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے اپنے تک رکھنے کی بجائے اپنے آقا و مولا حضرت اقدس محمد اللہ کی طرف روانہ کردیا گویا خود قبلہ نہ بنے بلکہ قبلہ نما ہو گئے اور بہت بڑی نصیحت فرمائی ہے کہ اگر تم اس خیال سے حسن خلق کا مظاہرہ کرتے ہو کہ حضرت اقدس محمد اللہ نے یہ فرمایا یا ایسا کیا کرتے تھے تو حسن خلق میں مزید ایک حسن پیدا ہو جائے گا جسے قرآنی اصطلاح میں نُورٌ عَلَى نُورٍ کہہ سکتے ہیں۔ایک حسن تو وہ ہے جو آپ کی فطرت سے پھوٹا ہے آپ کی فطرت کا حصہ ہے اس میں کسی تصنع کسی بناوٹ کا دخل نہیں اور ایک وہ حسن ہے جو آسمان سے حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا جس کا ذکر قرآن کریم نے نُورٌ عَلَى نُورٍ کہہ کر فرمایا اگر اس نور سے ہم حصہ پائیں اور اپنے فطری نور کو اور زیادہ صیقل کر لیں تو اس صورت میں یہ مہمان نوازی، مہمان نوازی ہی نہیں رہتی بلکہ عبادت بن جاتی ہے۔مہمان کی ضرورت کا خیال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس قدر رہتا تھا اور اس باریکی سے آپ خیال فرماتے تھے کہ جب کوئی مہمان روانہ ہونے لگے تو اندازہ لگایا کرتے تھے کہ اگلے شہر میں جہاں کھانا میسر ہے کتنی دیر میں پہنچے گا اور اگر رستے میں کھانے کا وقت آئے تو کبھی بھی زادراہ ساتھ مہیا کئے بغیر روانہ نہیں فرماتے تھے۔قریشی محمد عثمان صاحب فرماتے ہیں ”جب میں حضور سے رخصت ہونے لگا تو فرمایا بٹالہ دو بجے کے قریب پہنچو گے راستہ میں کھانے کا وقت آجائے گا اس لئے یہاں سے ہی کھانا ساتھ کئے دیتے ہیں چنانچہ حضور نے حضرت اماں جان سے کہہ کر کھانا تیار کروا کر ہمارے ساتھ دیا۔“