خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 497 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 497

خطبات طاہر جلدا 497 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء نکلا ہے کہ دور کے مہمانوں سے بھی اجنبیت نہیں رہی اور یہ روز مرہ کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں بلکہ جلسہ سالانہ میں مہمانوں کو گھر ٹھہرا کر جو روحانی لذتیں میزبانوں کو ملتی ہیں ان کی یادا گلے جلسہ تک مچلتی رہتی ہے کہ کب پھر وہ دن آئیں اور پھر ہمیں میزبانی کی توفیق عطا ہو اور دوران سال بھی اس کے نیک اثر اُن کے جذ بہ مہمان نوازی کو بڑھا کر ، فزوں تر کر کے اُن کے روز مرہ کے اخلاق پر اچھا اثر ڈالتے رہتے ہیں۔کہ پس اس پہلو سے جب بھی دنیا کی قوموں پر نظر ڈالتا ہوں تو بلاشبہ پورے یقین کے ساتھ سکتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مہمان نوازی میں جماعت احمدیہ سے بڑھ کر کوئی تجربہ کار قوم نہیں ہے۔مہمان نواز تو بہت ہیں عربوں میں بڑی مہمان نوازی ہے اسی طرح بعض دوسری قوموں میں بھی بہت مہمان نوازی ہے اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ احمدی باقیوں سے بڑھ کر مہمان نواز ہیں۔میں یہ کہتا ہوں کہ جتنی مہمان نوازی کا تجربہ احمدیوں کو ہوتا ہے دنیا کے پردے پر کسی اور قوم کو ایسا تجربہ نہیں کیونکہ جب ایک دوسرے کے شہروں میں سیر کے لئے بھی جائیں تو بسا اوقات احمدی گھروں میں جگہ ڈھونڈی جاتی ہے اور احمدی گھر بھی شوق سے وہ جگہیں سیاحوں کو پیش کرتے ہیں تو اس لئے چونکہ یہ تجربے بہت کثرت کے ساتھ ہو رہے ہیں اور ان کا اخلاق پر بڑا اچھا اثر بھی پڑ رہا ہے اور برا بھی پڑسکتا ہے اور آئندہ نسلوں کے لئے آئندہ زمانوں کے لئے اسی طرح اخلاق پر اثرات جاری ہو سکتے ہیں۔پس اس پہلو سے چند نصائح ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آپ ان کے اوپر پوری توجہ فرمائیں گے اور جیسا کہ پہلے ہی آپ کا مزاج مہمان نوازی کا مزاج ہے اور اسوہ انبیاء کے تابع ہے ان نصائح کے بعد آپ ان فرائض کو اور بھی حسن خلق کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق ملے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مہمان نوازی کے چند واقعات خالد مارچ ۱۹۹۱ء میں چھپے تھے وہیں سے یہ واقعات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس کے بعد کسی اور نصیحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔مولوی عبد اللہ سنوری صاحب کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت اقدس بیت مبارک میں ساتھ والے حجرہ میں لیٹے ہوئے تھے کہ کھڑکی پر لالہ شرمیت یا شاید لالہ ملا دامل نے دستک دی میں