خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 499 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 499

خطبات طاہر جلدا 499 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء اس زمانہ میں اس طرح باقاعدہ لنگر خانہ جاری نہیں تھا جس طرح آج کل ہے اور بہت سا بوجھ حضرت اماں جان خود اٹھایا کرتی تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بے تکلفی سے آپ کو ضروریات بتا دیا کرتے تھے چنانچہ اس مہمان نوازی میں بھی حضرت اماں جان نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بہت ساتھ دیا ہے اور جب تک بیویاں خاوندوں کا ساتھ نہ دیں مہمان نوازی کے حق ادا نہیں ہو سکتے اس لئے مردوں کو چاہئے کہ اپنی عورتوں کو بھی مہمان نوازی کے اخلاق سمجھائیں اور اپنے اعلیٰ نمونے سے ان کے اندر مہمان نوازی کے جذبے پیدا کریں۔یہ کام ایک دو دن کا نہیں ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ سارا سال آپ اپنی بیوی سے بدخلقی کا مظاہرہ کرتے رہیں اور جب مہمان آئے تو اس کو نصیحت کریں کہ مہمانوں سے حسن خلق سے پیش آنا چاہئے اس لئے تم میرا ہاتھ بٹاؤ۔ایسی صورت میں بیوی کبھی بھی بچے دل سے اپنے خاوند کا ہاتھ نہیں بٹاسکتی لیکن وہ خاوند جو آنحضرت ﷺ کی طرح روز مرہ کی زندگی میں اپنی ازواج سے حسن سلوک کرتے ہیں ان کے بوجھ بانٹتے ہیں ، ان پر بوجھ نہیں ڈالتے ، جہاں تک استطاعت ہو اپنے کام خود کرتے ہیں اور جہاں دیکھا کہ بیوی پر زیادہ بوجھ پڑ رہا ہے تو ساتھ مل کر خدمت میں شامل ہو جاتے ہیں ایسی بیویاں ضرورت کے وقت اپنی جان فدا کرنے کے لئے بھی تیار ہو جاتی ہیں۔پس محض ایک وقت کی نصیحت کی بات نہیں سارے سال کا حسن خلق ہے جو موسم پر پھل دیتا ہے اور جب مہمان نوازی کے موسم آتے ہیں تو یہی میٹھے پھل ہیں جو آپ کی سارا سال کی محنتوں کو لگتے ہیں۔پس آپ یوں ہی نہ سمجھیں کہ آپ ہاتھ بڑھائیں گے تو پھل آجائے گا۔اس پھل کو لانے کے لئے پانی لانا پڑتا ہے، سارا سال محنت کرنی پڑتی ہے، درخت کی سیرابی اور اس کی خوراک کے انتظام کئے جاتے ہیں تب جا کر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ درخت پھل آنے کے موسم میں پھل دیتا ہے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں۔ایک بار میں اور میری والدہ قادیان آئے ہوئے تھے۔ہم واپس ہونے لگے تو حضور ہمارے یکہ پر سوار ہونے کی جگہ تک ساتھ تشریف لائے اور ہمارے راستہ کے لئے کھانا منگوایا۔وہ کھا نا لنگر خانے والوں نے کسی کپڑے میں باندھ کر نہ بھیجا تھا۔تب حضرت اقدس نے اپنے عمامہ سے قریباً ایک گز کپڑا پھاڑ کر اس میں روٹی کو باندھ دیا۔“ (ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صفحه: ۴۵)