خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 496
خطبات طاہر جلدا 496 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء عزت افزائی اسی طرح ہونی چاہئے جیسے خدا کے مہمانوں کی عزت افزائی کا حق ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان آپ کے ذاتی مہمان تو نہیں ہیں اللہ ہی کے مہمان ہیں اللہ ہی کی خاطر ان کے مہمان بنے ہیں۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بار بار یہ خبر دی تھی کہ بہت دور سے کثرت کے ساتھ لوگ تیرے پاس آئیں گے۔ان پیش خبریوں میں جو عطا فرمائی گئیں عجیب بات یہ ہے کہ قادیان آنے کا ذکر نہیں ملتا بلکہ تیرے پاس آنے کا ذکر ملتا ہے۔میں نے جب اس مضمون پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ خلیفہ وقت بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی میں آپ کا نمائندہ ہے اس لئے وہ ربوہ میں ہو یا کسی اور شہر میں مہمانوں کے رخ اُسی کی طرف پھر جاتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ الہام بڑی شان کے ساتھ بار بار اسی طرح پورا ہوتا ہے۔لندن کے لوگوں پر مہمانوں کا سب سے زیادہ مہمانی کا بوجھ پڑتا ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ لندن کے لوگ اس بوجھ کو پھولوں کی طرح ہلکا سمجھتے ہوئے بڑی محبت اور اخلاص کے ساتھ خدمات بجا لاتے ہیں اور ایسے بھی گھر ہیں جہاں چار پانچ کی بجائے چالیس پچاس افراد ان چھوٹے سے گھروں میں بسیرا کر لیتے ہیں اور ربوہ اور قادیان کی وہ پرانی یاد میں آجاتی ہیں کہ وہاں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان اسی طرح بعض گھروں میں اس طرح سمٹ جایا کرتے تھے کہ یقین نہیں آیا کرتا تھا کہ چھوٹے سے گھر میں اتنے احباب اکٹھے ہو سکتے ہیں لیکن جیسا کہ قرآنی تعلیم ہے کہ دونوں طرف کے حقوق ہوا کرتے ہیں۔مہمانوں کے بھی حقوق ہیں اور میز بانوں کے بھی حقوق ہیں اور جلسہ سے پہلے جمعہ پر عموماً یہی دستور ہے کہ مہمانوں کو مہمانوں کے فرائض اور اُن کے میز بانوں کو اُن کے مہمانوں کے حقوق بتائے جائیں۔اسی طرح مہمانوں کو میز بانوں کے حقوق اور میز بانوں کو اُن کے فرائض بتائے جائیں۔وہ فرائض جو میز بانوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت کے خون میں رچ بس چکے ہیں۔اس کثرت سے جماعت میں مہمان نوازی کی عادت ہے کہ شاید ہی دنیا میں کوئی ایسی قوم ہو جہاں اس کثرت کے ساتھ مہمان آتے ہوں اور مہمانوں کو محبت کے ساتھ اور شوق کے ساتھ قبول کیا جاتا ہو اور اس کی بڑی وجہ جلسہ سالانہ کی Institution ہے یعنی نظام جلسہ سالانہ نے ہمارے اخلاق پر بہت عمدہ اور گہرا اثر مترتب فرمایا ہے اور اس کا نتیجہ یہ