خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 495
خطبات طاہر جلد ۱۱ 495 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی کے عظیم نمونے جلسہ کے میز بانوں اور مہمانوں کو قیمتی نصائح (خطبہ جمعہ فرموده ۲۴ / جولائی ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔جلسہ کے دن جوں جوں قریب آرہے ہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان بھی دنیا کے مختلف ممالک سے یہاں جمع ہو رہے ہیں اور کچھ دنوں سے ایسی ایسی صورتیں خدا تعالیٰ کے فضل سے دکھائی دے رہی ہیں جن کو دیکھے ہوئے مدتیں گزرگئی تھیں۔سادہ غریب لوگ جن کے ذہن میں بھی کبھی انگلستان آنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔غالب نے تو تکلفا کہا ہے کہ لکھنو آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنی ہوس سیر و تماشہ سو وہ کم ہے ہم کو (دیوان غالب صفحہ: ۲۰۱) لیکن یہاں یقیناً بلا شبہ یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اُن مہمانوں پر صادق آتا ہے جن کو پنجاب میں رہتے ہوئے بھی لاہور دیکھنے کا شوق نہیں تھا اور سندھ میں رہتے ہوئے بھی کراچی دیکھنے کا شوق نہیں تھا اپنے ارد گرد کے قصبوں میں بھی ضرورت سے جایا کرتے تھے تو ہوس سیر و تماشہ تو کوئی نہیں اس لئے ان مہمانوں کی بھاری تعداد ایسی ہے جو محض اللہ بہت صعوبتیں اُٹھا کر، بہت خرچ کر کے بلکہ بہت سی صورتوں میں توفیق سے بڑھ کر اور آئندہ سالوں کی آمدن پر انحصار کرتے ہوئے قرضے لے کر بھی یہاں پہنچے ہیں یا پہنچ رہے ہیں اور پہنچیں گے۔ان سب مہمانوں کی