خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 479 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 479

خطبات طاہر جلد ۱۱ 479 خطبہ جمعہ سے امر جولائی ۱۹۹۲ء عوام الناس کا جہاں تک تعلق ہے ان کے بس کی بات نہیں کہ ان گندی حالتوں میں اللہ تعالیٰ سے براہ راست فیض پاسکیں۔د۔پس اس لئے حکمت اور رحمت الہی نے یہ تقاضا فرمایا کہ نوع انسان اور اس میں بعض افراد کا ملہ جو اپنی فطرت میں ایک خاص فضیلت رکھتے ہوں درمیانی واسطہ ہوں۔۔۔۔66 یعنی ایسے لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی شفاف فطرت عطا فرمائی ہے وہ بنی نوع انسان کے عوام الناس اور خدا تعالیٰ کے درمیان ایک رابطہ بن جائیں۔اور وہ اس قسم کے انسان ہوں جن کی فطرت نے کچھ حصہ صفات 66 لاھوتی سے لیا ہو اور کچھ حصہ صفات ناسوتی سے۔۔لاهوت صوفیاء کی اصطلاح میں اس عالم کا نام ہے جس میں صفات الہی جلوہ گر ہیں اور خدا کے سوا اور کچھ نہیں ہے وہی ہے اور وہی ہے اور وہی ہے اور اُس کے سوا کچھ نہیں۔اس کو لاھوتی مقام کہتے ہیں اور ناسوتی مقام انسانوں سے تعلق کا مقام ہے جس میں خدا کی ہر قسم کی مخلوق موجود ہے اور مخلوق میں سے اول درجہ پر انسان ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ۔۔۔ایسے انسان چاہئیں جن کی فطرت نے کچھ حصہ صفات لا ہوتی وو سے لیا ہو اور کچھ حصہ صفات ناسوتی سے۔تا باعث لاھوتی مناسبت کے 66 خدا سے فیض حاصل کریں۔۔۔۔ان میں بعض صفات ایسی ہوں جن میں گندگی کا کوئی ذرہ شائبہ بھی نہ ہوا یسی پاک صفات ہوں کہ گویا انہوں نے خدا کی صفات سے حصہ لے لیا ہے اور کچھ صفات بنی نوع انسان سے تعلق رکھنے والی صفات ہوں۔وہ انسانیت اور الوہیت کا سنگم بن جائیں اور اس طرح ان کو ایک طرف سے خدا تعالیٰ سے فیض پہنچے اور دوسری طرف اپنے انسانی تعلق کی وجہ سے اس فیض کو انسانوں میں جاری فرماسکیں۔فرماتے ہیں۔وو تا باعث لاہوتی مناسبت کے خدا سے فیض حاصل کریں اور بباعث ناسوتی مناسبت کے اس فیض کو جو اوپر سے لیا ہے نیچے کو یعنی بنی نوع کو