خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 480 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 480

خطبات طاہر جلدا 480 خطبہ جمعہ کے ار جولائی ۱۹۹۲ء پہنچا ویں اور یہ کہنا واقعی صحیح ہے کہ اس قسم کے انسان بوجہ زیادت کمال لاهوتی اور ناسوتی کے دوسرے انسانوں سے ایک خاص امتیاز رکھتے ہیں۔گویا یہ ایک مخلوق ہی الگ ہے کیونکہ جس قدر ان لوگوں کو خدا کا جلال اور عظمت ظاہر کرنے کے لئے جوش دیا جاتا ہے اور جس قدر ان کے دلوں میں وفاداری کا مادہ بھرا جاتا ہے اور پھر جس قدر بنی نوع کی ہمدردی کا جوش ان کو عطا کیا جاتا ہے وہ ایک ایسا امر فوق العادت ہے جو دوسرے کے لئے اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ہاں یہ بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ یہ تمام اشخاص ایک مرتبہ پر نہیں ہوتے بلکہ ان فطرتی فضائل میں کوئی اعلیٰ درجہ پر ہے کوئی اس سے کم اور کوئی اس سے کم۔۔۔یہ وہ مضمون ہے جس کو سمجھنے کے بعد شفاعت کا مضمون پھر اور زیادہ واضح طور پر انسان کے دل اور عقل میں سرایت کر جاتا ہے۔اس مضمون کو بیان کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اب دل ہمیر اور عقل کی ایک مشتر کہ گواہی پیش کرتے ہیں۔کس خوب صورتی سے آپ نے اس مضمون کا ارتقاء فرمایا ہے۔پہلے ضمیر کی آواز جو سب انسانوں میں قدر مشترک ہے پھر عقل سلیم کی آواز جو تمام انسانوں میں قدر مشترک ہے پھر فرماتے ہیں ایک سلیم العقل کا پاک کانشنس یہ سمجھ سکتا ہے وہ شخص جوسلیم العقل ہو اور اس کا ضمیر بھی پاک ہواور ضمیر مختلف قسم کی آلودگیوں سے گندا نہ ہو چکا ہو۔اس کے اندر کوئی رخنہ نہ پیدا ہو چکا ہو۔فرماتے ہیں یہ وہ مقام ہے جہاں شفاعت کا مضمون سمجھ آتا ہے۔۔۔۔اور ایک سلیم العقل کا پاک کانشنس سمجھ سکتا ہے کہ شفاعت کا مسئلہ کوئی بناوٹی اور مصنوعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ خدا کے مقرر کردہ انتظام میں ابتداء سے اس کی نظیر میں موجود ہیں اور قانون قدرت میں اس کی شہادتیں صریح طور پر ملتی ہیں۔۔۔اندر کی جو علامتیں ہیں وہ انسانی نفوس سے تعلق رکھنے والی ہیں۔بیرونی شہادتیں آفاق سے تعلق رکھنے والی ہیں اور یہ دونوں شہادتیں ہیں جن کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے کہ ہم تمہارے نفوس