خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 478
خطبات طاہر جلد ۱۱ 478 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی۱۹۹۲ء پس نفس پر بھروسہ کے ذریعہ انسان اعلیٰ مقاصد اور مطالب کو نہیں پاسکتا۔فرماتے ہیں۔”یہ تو انسانی کانشنس کی شہادت ہے۔۔۔یعنی انسانی ضمیر کی گواہی ہے جو ہر انسان کو برا بر عطا ہوا ہے۔پھر ایک عقلی دلیل کی طرف منعطف ہوتے ہیں۔فرماتے ہیں وو۔۔۔اور ماسوا اس کے اگر غور اور فکر سے کام لیا جائے تو عقل سلیم بھی اسی کو چاہتی ہے۔۔۔6 یعنی اگر انسان کانشنس کو چھوڑ کر عقل کے ذریعہ ایک صحیح نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرے تو وہ نتیجہ پھر وہی ہو گا جو اُس کے ضمیر نے پہلے سے نکال رکھا ہے اور بعض دفعہ ایک ضمیر بی غفلتوں کے نتیجہ میں نیم جان سا ہو چکا ہوتا ہے۔بعض دفعہ اس کی آواز اتنی کمزور ہو جاتی ہے کہ انسان تک پہنچتی نہیں ہے اور جسے وہ ضمیر کی آواز سمجھ رہا ہے وہ اس کی بگڑی ہوئی حالتوں کی آواز ہوتی ہے۔پس عقل کی بھی ضرورت ہے جو بیرونی نظر سے دیکھے اور ذاتی جذبات کے الجھاؤ سے بالا ہوکر وہ اطراف پر نظر ڈالے اور ایک نتیجہ اخذ کرے تو فرماتے ہیں کہ دو عقل سلیم بھی اس کو چاہتی ہے کہ نجات کیلئے شفیع کی ضرورت ہے۔“ اب جوں جوں ہم آگے بڑھیں گے تو شفاعت کا مضمون اور کھلتا چلا جائے گا۔فرماتے ہیں۔۔۔کیونکہ خدا تعالیٰ نہایت درجہ تقدس اور تطہر کے مرتبہ پر ہے اور وو انسان نہایت درجہ ظلمت اور معصیت اور آلودگی کے گڑھے میں ہے۔۔۔اللہ تعالیٰ ایک پاک ذات ہے جس کی قدوسیت وہم و گمان سے بالا ہے اور وہ اپنے تطہر میں اپنی پاکیزگی میں اتنا بلند اور مصفی اور شفاف ہے کہ کدورتوں سے اس کا کوئی رابطہ کسی صورت دکھائی نہیں دیتا۔اس کے برعکس انسان ہر قسم کی ذلتوں میں گرا ہوا، ہر قسم کے گناہوں میں ملوث ، ہر قسم کی نفسانی آلودگی میں الجھا ہوا اور ان دنیاوی گندوں سے لت پت ہے۔فرمایا کیسے وہ تعلق قائم ہو کہ ایک طرف قدوس ذات ہے اور دوسری طرف گناہوں میں مبتلا انسان۔تو فرماتے ہیں۔۔۔۔اور بوجہ فقدان مناسبت اور مشابہت عام طبقہ انسانی گروہ کا اس وو لائق نہیں کہ وہ براہ راست خدا تعالیٰ سے فیض پا کر مرتبہ نجات کا حاصل کرلیں۔۔۔