خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 477
خطبات طاہر جلد ۱۱ 477 خطبہ جمعہ کے ار جولائی ۱۹۹۲ء بچاوے کیونکہ انسان اپنی فطرت میں ضعیف ہے اور وہ کبھی ایک دم کے لئے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔۔۔۔66 یہ جو دلیل ہے یہ نفس کی گواہی سے تعلق رکھنے والی دلیل ہے، انسانی فطرت سے تعلق رکھنے والی دلیل ہے جو از خود ہر انسان کے دل سے پھوٹتی ہے۔وہ تمام امور جن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انسان کے روز مرہ کی زندگی کے تجارب کے سلسلہ میں ذکر فرمایا ہے یعنی ہوائے نفس کی طرف سے اس کو ٹھوکر لگنا غفلتوں کے پردوں میں انسان کا زندگی بسر کرنا بنفسانی حملوں کے علاوہ دیگر لغزشیں اور کمزوریاں جو آئے دن اس سے سرزد ہوتی رہتی ہیں ، لاعلمی کی ٹھوکریں،ایک انسان نیک نیت بھی ہو لیکن علم نہ ہو کہ رستہ کون سا ہے تو اس کی وجہ سے بھی وہ نقصان اُٹھاتا ہے، قدم قدم پر تاریکیوں سے معاملہ ہے، کئی قسم کے اندھیرے رستے میں حائل ہو جاتے ہیں۔صحیح رستہ بھی ہو تو پھر بھی انسان اندھیروں کی وجہ سے ٹھوکر کھا جاتا ہے۔مسلسل خطرات ہیں ، وساوس ہیں، کئی وساوس نفس سے پیدا ہوتے ہیں، کئی ساتھی جن میں انسان اٹھتا بیٹھتا ہے ان کی طرف سے وساوس دل میں پیدا کئے جاتے ہیں اور طرح طرح کے مصائب ہیں جن سے انسان کو روزمرہ معاملہ ہے۔ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں جس پر وہ اپنی ذاتی قوت کے ساتھ غلبہ پاسکے اور یقین سے کہہ سکے کہ مجھے اس طرف سے کوئی خوف نہیں رہا۔زندگی کی کیفیت تو یہ ہے کہ ایک خوف سے بچتا ہے تو دوسرے میں مبتلا ہو جاتا ہے، دوسرے سے بچتا ہے تو تیسرے میں مبتلا ہو جاتا ہے اور ساری زندگی مختلف قسم کے خوفوں میں ہی مبتلا ہوتی ہے لیکن سب سے بڑا خوف غفلت کا خوف ہے جس کے نتیجہ میں خوف کا احساس مارا جاتا ہے اور یہ ساری چیزیں انسانی زندگی کے لئے ، اس کی روحانی زندگی کے لئے ایک عظیم خطرہ ہے، مسلسل خطرہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نفس ناطقہ گواہی دیتا ہے ،انسان کے اندر موجود ہے وہ اُسے بتاتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا مقام نہیں جہاں تم سہارے کے محتاج نہیں ہو تمہیں ہر قدم پر سہارا چاہئے۔اندھیروں کی بات کریں تو روشنی بھی تو سہارا ہے اور غیب سے روشنی نصیب ہونا یہ بھی ایک سہارا ہے، جہالت کی بات کریں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عالم عطا ہو جانا جو صحیح علم عطا کرے یہ بھی ایک سہارا ہے تو انسان محض اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔فرماتے ہیں کہ " 66 اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کر سکتا کہ وہ خود بخود نفسانی ظلمات سے باہر آسکے۔۔۔