خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 476 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 476

خطبات طاہر جلد ۱۱ 476 خطبہ جمعہ سے امر جولائی ۱۹۹۲ء والدرجة الرفيعة وابعثه مقاما محموداً ن الذي وعدته ( بخاری کتاب الاذهان حدیث نمبر: ۵۷۹) اے اللہ !محمد کو وسیلہ بنادے یا وسیلہ عطا فرما۔میں نے وسیلہ بنادے“ کا ترجمہ ان معنوں میں کیا ہے کہ وہ مقام عطا فرما جو وسیلہ کا مقام ہے۔یہ اس کے معنی ہیں کیونکہ باقی سب مضمون اعلیٰ مراتب کے عطا کرنے کی دعا ہے۔پس ان معنوں میں خدا سے تعلق کا سب سے زیادہ یقینی اور قطعی اور آسان اور عمد درستہ حضرت اقدس محمدﷺ سے تعلق جوڑنا ہے۔اس سلسلہ میں سب سے پہلے شفاعت کا مضمون سامنے آتا ہے کیونکہ اس تعلق کے نتیجہ میں شفاعت نصیب ہوتی ہے۔عوام الناس میں شفاعت کا ایک ایسا مفہوم پایا جاتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور شفاعت کے مفہوم میں جو بہت ہی لطیف اور باریک در بار یک مطالب ہیں ان سے نہ عوام الناس کو کوئی آگاہی ہے نہ اُن علماء کو جو اُن کی تربیت کرتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے عشق میں فنا تھے اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں بھی فنا تھے آپ کو جو عرفان نصیب ہوا ہے وہ دنیا کے علماء کو نصیب ہونا تو درکنار اس کی خاک کو بھی وہ نہیں پہنچ سکتے۔یہ ایک خدا رسیدہ عالم کا اور ایک عام دنیا کے عالم کا فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جو تحریر میں نے آج آپ کے سامنے رکھنے کے لئے چینی ہے اس کو بغور سنیں تو آپ پر یہ مضمون خود بخود کھلتا چلا جائے گا۔فرماتے ہیں: ”مذہبی مسائل میں سے نجات اور شفاعت کا مسئلہ ایک ایسا عظیم الشان اور مدارالمہام مسئلہ ہے۔۔66 یعنی بہت ہی اہم مسئلہ ہے جس کو کسی قیمت پر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔وو۔۔۔یہ تو ظاہر ہے کہ ہر ایک انسان طبعا اپنے دل میں محسوس کرتا ہے کہ وہ صد ہا طرح کی غفلتوں اور پردوں اور نفسانی حملوں اور لغزشوں اور کمزوریوں اور جہالتوں اور قدم قدم پر تاریکیوں اور ٹھوکروں اور مسلسل خطرات اور وساوس کی وجہ سے اور نیز دنیا کی انواع اقسام کی آفتوں اور بلاؤں کے سبب سے ایک ایسے زبردست ہاتھ کا محتاج ہے جو اُس کو اِن تمام مکروہات سے