خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 428
خطبات طاہر جلد ۱۱ 428 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۹۲ء پاؤں تلے روند نا یعنی اتنی محنت اس کام کے لئے کرنی پڑے گی کہ گویا اپنے نفس کو پاؤں تلے روندنا ہوگا، بار بار کچلنا ہوگا، جیسے ایک کیڑے کو کچلا جاتا ہے اور یہ روند نا ایک دن اور ایک رات کا روند نا نہیں ہے بلکہ زندگی بھر کا ساتھ ہے۔تمہیں زندگی کی ہر رات اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا ہوگا اور رات کو اس لئے فرمایا کہ دن کے وقت زندگی کے سو دوسرے تقاضے انسان کو لاحق ہو جاتے ہیں۔کہیں ریاء کے خطرات پیدا ہو جاتے ہیں کہ کوئی شخص دیکھ رہا ہے ،کہیں شرم و حیا مانع ہو جاتے ہیں۔دن کی عبادت میں اگر ریا نہ بھی ہو تو دوسرے کے دیکھنے کے نتیجہ میں انسان خدا کے حضور تنہائی کا لطف حاصل نہیں کر سکتا اور بعض دفعہ دل میں جو بے اختیار کیفیت پیدا ہوتی ہے اور انسان ان کیفیات میں ایسی حرکتیں کرتا ہے، ایسے چہرے بناتا ہے، ایسے کلمات منہ سے نکالتا ہے کہ جن میں ایک قسم کا جنون سا پایا جاتا ہے اور یہ پسند نہیں کرتا کہ دنیا اس حالت کو دیکھ رہی ہو اس لئے رات کے وقت سے بہتر اور کوئی وقت نہیں ہے جبکہ باقی دنیا سوئی ہوئی ہوتی ہے گھر والے بھی یا آرام کر رہے ہیں یا دوسرے کمروں میں ہوں گے۔تو رات کے وقت خدا تعالیٰ کے لئے علیحدگی اختیار کرنا یہ فطرتی لحاظ سے سب سے زیادہ قریب ہے۔سب سے زیادہ اس بات کے قریب ہے کہ آپ واقعتہ اللہ تعالیٰ کے لئے الگ ہو جائیں اور اس حالت میں آپ کو اللہ سے ایسی باتیں کرنے کا موقع مل سکتا ہے جو عام دنیا کے روز مرہ کے زندگی کے حالات میں نہیں مل سکتا۔فرمایا وَاَقْوَمُ قِيلًا اور رات کی بات میں اصل وزن ہے کیونکہ اس وقت تم خدا سے جو باتیں کرتے ہو اس میں کسی اور مقصد کی ملونی ہو ہی نہیں سکتی۔کوئی آدمی پاگل تو نہیں کہ گرمیوں کی رات ، چھوٹی سی رات جس کا کچھ وقت مغرب اور عشاء میں گزر گیا کچھ صبح کی تیاری میں اور جو تھوڑا سا وقت ملا اس کو بھی نصف یا اس سے کچھ زیادہ عبادت میں صرف کر دے۔تو رات کا وہ اُٹھنا اس کی سنجیدگی ، اس کے اخلاص اور اس کے محض اللہ عبادت کرنے پر گواہ بن جاتا ہے۔فرمایا ایسی صورت میں جب تم خدا سے بات کرو گے تو خدا اس پر زیادہ توجہ دے گا اور خدا تعالیٰ یہ جان لے گا کہ تمہاری بات میں سچائی کا وزن ہے ، سچی اور سیدھی بات کر رہے ہو اور اس کے نتیجہ میں تمہیں وہ طاقت ملے گی جس طاقت کی تمہیں اللہ تعالیٰ کے لئے دنیا سے الگ ہونے کے لئے سخت ضرورت ہے۔خدا سے طاقت حاصل کئے بغیر یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ انسان کلیۂ دنیا سے تعلق تو ڑ کر خدا کا ہو جائے۔اس کے بعد فرماتا ہے کہ اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا يعنى