خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 429
خطبات طاہر جلدا 429 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۹۲ء دلیل دے رہا ہے کہ دن کو تو اور بھی بہت سے کام ہیں رات میں جو صلحتیں ہیں ان کے علاوہ ایک مشکل یہ بھی ہے کہ دن کے وقت اگر تم علیحدہ کوٹھڑی میں چھپنا بھی چاہو تو چھپ نہیں سکتے۔لوگ تمہیں ہر وقت کاموں کے لئے بلا رہے ہیں ادھر سے آواز آرہی ہے اُدھر سے آواز پڑ رہی ہے یہاں تک کہ قرآن سے پتا چلتا ہے کہ بعض لوگ آنحضرت ﷺ کے گھر کی طرف چلتے ہوئے دور سے آوازیں دینے لگ جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا ادب کا مقام ہے۔آہستہ بولا کرو اگر تم رسول کے سامنے اونچی آواز کرو گے تو تمہارا ایمان ضائع ہو جائے گا تمہارے اعمال بے کارجائیں گے تو خدا تعالیٰ کا یہ شدت کے ساتھ ناراضگی کا اظہار ہے یہ صاف بتا رہا ہے کہ بکثرت ایسا ہو رہا تھا اور ضرورت مند دیوانے ہوتے ہیں وہ آنحضور ﷺ کی طرف لپکتے ہوئے بعض دفعہ اونچی آوازوں سے بلانا شروع کر دیا کرتے تھے مگر دن رات میں سے بہت تھوڑا وقت تھا جو آنحضوری کا اپنا وقت تھا۔باقی سب بنی نوع انسان کے لئے خدا کے کاموں کے لئے وقف تھا۔خدا فرماتا ہے کہ اس وقت میں سے اُٹھا کرو جو خالصہ تمہارا ہے اس میں جب خدا کو دو گے تو یہ تمہارے اخلاص پر بھی دلالت کرے گا اور عقلاً بھی اس کے سوا کچھ کیا نہیں جاسکتا۔دن کے وقت تو تم عبادت کے لئے کلیہ الگ نہیں ہو سکتے وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ جو بات بیان فرمائی گئی تھی کہ ہم تجھے بہت ہی بوجھل بات بتانے والے ہیں وہ یہ ہے کہ وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا اللہ کانام بلند کیا کرو اور مقصد یہ ہے کہ خدا کا نام لیتے لیتے دنیا کے سب نام رفتہ رفتہ تمہارے ذہن سے اُٹھ جائیں اور دنیا سے کامل طور پر تعلق ٹوٹ جائے تَبَثَلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا تَبَثَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا دنیا کی ہر چیز سے تعلق توڑ کر کلیۂ خدا کے ہو جاؤ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ تب تمہارے لئے تمہارا رب مشرق اور مغرب کا رب بن کر اُبھرے گا پھر جس طرف تم منہ کرو گے وہاں رب ہی رب ہوگا اور کوئی وجود باقی نہیں رہے گا لا إلهَ إِلَّا هُوَ یہ معنی ہیں لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ کے زبان سے تو لاکھوں کروڑوں اربوں لوگ اقرار کرتے رہے، کرتے رہیں گے مگر ان کو کیا پتا کہ لا إلهَ إِلَّا هُوَ کیا ہوتا ہے۔فرمایا پھر ایک ہی خدارہ جائے گا اور کچھ نہیں رہے گا فَاتَّخِذْهُ وَكِيلاً پھر اس کو اپنا وکیل بنا۔لوگ کہتے ہیں ہم خدا پر تو کل کرتے ہیں یہ نہیں پتا کہ تو کل کیسے کیا جاتا ہے؟ اس کے دو حصے ہیں۔ایک ہے دنا کا حصہ اور