خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 427
خطبات طاہر جلدا 427 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۹۲ء مضمون جو یہاں بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص موسم میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اور بعد کے بدلتے ہوئے موسموں کو مد نظر رکھتے ہوئے ، سال کے مختلف حصوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس مضمون کو آگے بڑھایا گیا ہے۔سب سے چھوٹی رات گرمیوں کی رات ہوتی ہے۔پس گرمیوں کی رات میں اگر نصف عبادت کی جائے تو کوئی بڑا وقت عبادت کا نہیں ہے۔پس میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس آیت کا نزول گرمیوں میں ہوا ہے اور گرمیوں ہی سے بات شروع ہوئی ہے۔فرمایا۔قم الیل إِلَّا قَلِيلًا گرمیوں کی راتیں تو اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ مغرب اور عشاء اور صبح کی عبادتوں کو اگر نکال دیا جائے تو پچھلی رات میں بہت تھوڑ اوقت رہتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ بقیہ رات کا اکثر حصہ عبادت ہی میں خرچ ہو۔پس فرمایا قُمِ الَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا تھوڑا سا وقت آرام کا ملے گا باقی وقت عبادت میں صرف کر۔آگے پھر جب گرمیاں سردیوں کی طرف مائل ہوتی ہیں تو راتیں بڑی ہونے لگتی ہیں۔پھر فرمایا نِصْفَةَ أَوِ انْقُصُ مِنْهُ قَلِيْلًا پھر إِلَّا قَلِيْلًا کی بجائے نصفہ فرما دیا کہ ٹھیک ہے آگے راتیں لمبی ہونے والی ہیں اب اس کو آدھا کر دے اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا اور بھی تھوڑا سا کم کر دے پھر فرمایا اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ ترتیلا جب لمبی راتیں آئیں گی تو پھر عبادت کو کچھ لمبا بھی کر دیا کر کیونکہ جہاں آرام لمبا ہو گا وہاں عبادت بھی تو لمبی ہو جانی چاہئے تو ان معنوں میں سارے سال کی عبادتوں کا ذکر ان تین آیات میں بڑی لطافت کے ساتھ تدریجی اور ارتقائی رنگ میں بیان فرما دیا۔اس کے بعد فرمایا إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ہم جو تجھے تیار کر رہے ہیں تو یہ دراصل اس وجہ سے تیار کر رہے ہیں کہ ہم تجھے ایک بہت ہی بوجھل بات بتانے والے ہیں بہت ہی عظیم بات بتانے والے ہیں اور اس نصیحت سے پہلے کی یہ تیاری ہے جو بات بیان فرمائی جائے گی اس کا تعلق الْمُزَّ مِل سے ہے۔ایک ایسے شخص سے ہے جو پہلے ہی دنیا سے قطع تعلق ہو کر خدا کی طرف مائل ہونا چاہتا ہے فرمایا اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا تمہیں دنیا سے تعلق توڑنے اور خدا کی طرف مائل ہونے کے لئے محنت چاہئے کیونکہ دنیا کے تقاضے اور اس کے لوازمات ہر طرف سے انسان کو چمٹے ہوئے ہیں ان سے الگ ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے اس کے لئے رات کو اُٹھا کر کیونکہ رات کی عبادت نفس کو کچلنے کے لئے سب سے زیادہ طاقتور ذریعہ ہے وطعا کہتے ہیں