خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 375
خطبات طاہر جلدا 375 خطبه جمعه ۲۹ مئی ۱۹۹۲ء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَانَهُ وَلِيُّ حَمِيمٌ (حم السجدة: ۳۵) دیکھو تبلیغ کا یہ مقصد نہیں ہے کہ پھل صرف حاصل کرو اور پھر ان کو چھوڑتے چلے جاؤ۔تبلیغ کا مقصد یہ ہے کہ کسی شخص کو جب تم مسلمان بناتے ہو تو ایسا مسلمان بناؤ کہ وہ تم سے محبت کرنے لگے، تمہارا عاشق ہو جائے اور اتنا گہرا رابطہ تم سے پیدا ہو جائے گانَهُ وَلِيٌّ حَمِید کہ گویاوہ جانثار دوست بن گیا ہے۔اس رنگ میں آپ نے جب غیروں کو تبلیغ کرنی ہے، تو یاد رکھیں جو آپ کا جانثار دوست ہے وہ آپ کے رنگ پکڑے گا۔جیسے احمدی آپ ہیں ویسا ہی وہ بنے گا اسی لئے بہت ہی ضروری ہے کہ آپ کی محبت کے نتیجے میں وہ نقصان نہ اٹھائے۔آپ کی بد عادتیں اس میں منتقل نہ ہو جائیں ، آپ کی لغزشیں اس کی لغزشیں نہ بن جائیں، آپ کی کمزوریاں اس کی کمزوریاں نہ ہو جائیں۔پس تبلیغ کا مضمون بہت ہی گہر ا مضمون ہے، بڑی تفصیل کے ساتھ غور کرنے والا مضمون ہے اور بڑی تفصیل کے ساتھ ذمہ داریاں عائد کرنے والا مضمون ہے۔پس جب میں کہتا ہوں کہ اپنی تربیت کریں تو ان سارے تقاضوں کو ، ان احتمالات کو ، ان امکانات کو مد نظر رکھ کر کہتا ہوں۔خدا کرے کہ ہر احمدی ایسا مبلغ بنے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس تبلیغ کی برکت سے اس کے نفس کا مربی بیدار ہو جائے۔اپنے نفس کی تربیت کی طرف وہ متوجہ ہو اور اس تربیت کے نتیجے میں اس کے اعمال زیادہ حسین ہوتے چلے جائیں اور پھر اس کے حق میں پہلے سے زیادہ خدا کا یہ وعدہ پورا ہو کہ جس کے اعمال اچھے ہوں گے اس کے قول میں اور زیادہ تاثیر پیدا ہوتی چلی جائے گی۔پھر اس کی تربیت کے نتیجے میں جو نئے احمدی اپنی اصلاح کریں وہ بھی خدا کے فضل کے ساتھ ایسے داعی الی اللہ بن جائیں جن کی آواز میں غیر معمولی کشش ہو، جن کے عمل پہلے سے بڑھ کر حسین ہوتے چلے جائیں۔یہ وہ طریق ہے جس کے نتیجے میں روحانی انقلاب برپا ہوا کرتے ہیں، یہی وہ طریق ہے جس کے نتیجے میں آغاز اسلام میں ایک ایسا انقلاب بر پا ہوا جس نے دشمن کی آندھیوں کے رُخ موڑ دیئے اور کوئی طاقت اس انقلاب پر غالب نہ آسکی۔یہی وہ انقلاب تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بڑی شان اور شوکت کے ساتھ جاری ہوا اور باوجود اس کے کہ اس وقت احمدیت نہایت کمزور حالت میں تھی اس کے باوجود ایسی غیر معمولی طاقت کے ساتھ احمدیت نے نشو ونما اختیار کی ، اس شان کے ساتھ آگے بڑھی ہے کہ ہر مقابل کے منہ پھر گئے لیکن وہ احمدیت کا منہ