خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 374
خطبات طاہر جلد ۱۱ 374 خطبه جمعه ۲۹ مئی ۱۹۹۲ء حائل کرتے ہیں کئی طرح سے اس کو آپ سے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ادھر مخالفانہ طاقتیں اس کو آپ سے جدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ادھر آپ کی غفلت خود اس کو دھکے دے رہی ہے۔ایسی حالت بہت ہی دردناک حالت ہوتی ہے۔یعنی سارا سال محنت کے بعد یا ایک، دو، تین ، چار، پانچ سال بعض دفعہ دس سال کی محنت کے بعد ایک پھل لگا ہے اور اسے سنبھالنے کی بجائے اسے مخالفانہ طاقتوں کے سپر د کر دیا جاتا ہے۔سنبھالنے میں دو طرح کے کام ضروری ہیں۔ایک یہ کہ جس نے تبلیغ کی ہے اس کو لازماًیہ سمجھنا چاہئے کہ اولین ذمہ داری اس کی ہے۔اس کو خدا تعالیٰ نے روحانی اولاد عطا کی ہے یہ اس کی کھیتی کا پھل ہے اور اس کو سنبھالنے میں سب سے پہلی ذمہ داری اس کی ہے اور سب سے زیادہ اہلیت بھی اسی کی ہے۔اسے چاہئے کہ ہر آنے والے کے ساتھ ایسا گہراذاتی تعلق بنائے جیسے اپنے خاندان کا وہ کوئی فرد ہو۔اس کے ساتھ پیار اور محبت کا سلوک کرے، اس کو اپنے گھر میں بلائے ، اس کے گھر آنا جانا شروع کرے، اس کے مسائل میں اس کا معین اور مددگار ہو، اس کا مشیر بن جائے ، ہر بات میں وہ سمجھے کہ سب سے پہلے اگر مجھے کسی طرف سے مددمل سکتی ہے تو میرے روحانی مربی کی طرف سے مل سکتی ہے۔ایسے تبلیغ کرنے والے جو پھل حاصل کرنے کے بعد اس طرح اپنے اُس پھل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو خدا انہیں عطا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان کی تبلیغ پھر نئے نئے رنگ لاتی ہے اور وہی پھل آئندہ کے لئے بیج بن جاتا ہے اور وہی بیج ہے جو آئندہ لہلہاتی ہوئی کھیتیوں میں تبدیل ہو جایا کرتا ہے۔ایسے لوگوں کی تبلیغ ایک مقام پر پہنچ کر ضائع نہیں ہوتی بلکہ اور نشو ونما پاتی ہے، پلیتی ہے، پھولتی ہے، پھلتی ہے اور پھیلتی ہے۔پس تبلیغ کے مضمون کو اگر آپ گہرائی میں سمجھیں تو یہ نہ ختم ہونے والا مضمون ہے جو لوگ آپ کی تبلیغ کے ذریعہ احمدی ہوئے ہیں ان کو ایسا احمدی بنانا ہے کہ وہ خود آگے مبلغ بن جائیں۔ایسے ان کی تربیت کرنا کہ وہ آپ کے ساتھ ہمیشہ کے لئے گہرے طور پر وابستہ ہو جائیں۔آپ سے محبت کرنے لگے آپ سے تعلق رکھنے لگے اور ذاتی طور پر آپ سے اُس کا پیار پیدا ہو جائے۔یہ نہ صرف یہ کہ انتہائی ضروری ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے قرآن کریم میں کھلم کھلا یہی پیغام ہے جو آپ کو دیا گیا ہے۔چنانچہ وہ آیت جس کی بارہا میں نے تلاوت کی ، بارہا اس کے مضامین آپ کو سمجھائے ہیں۔اُن