خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 350

خطبات طاہر جلدا 350 خطبه جمعه ۱۵ارمئی ۱۹۹۲ء میں مختلف شکلوں میں آئے اور حیرت انگیز طور پر آپ ﷺ نے ہر امتحان میں نمایاں کامیابی عطا فرمائی ایسی جو چاند سورج کی طرح روشن کامیابی تھی اول زندگی میں آپ کے والد کا وصال بعض روایات میں آپ کی پیدائش سے پہلے ہو چکا تھا۔یعنی پیدا ہی یتیم ہوئے ہیں اور چھوٹی عمر تھی کہ والدہ کا وصال ہو گیا اب بچپن میں والد اور والدہ کے بالکل بغیر آپ کو دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی بسر کرنا پڑی اور اس صبر کے ساتھ اور اس شان کے ساتھ آپ نے یہ دور گزارہ ہے کہ اس میں احساس کمتری کو ایک ذرہ بھی داخل نہیں ہونے دیا صبر کے امتحان کے وقت لوگ عام طور پر منفی صفات دیکھتے ہیں لیکن میں نے انسانی فطرت پر جہاں تک غور کیا ہے یتامی کے لئے سب سے بڑا امتحان احساس کمتری کا امتحان ہوتا ہے وہ یتیم جوصبر نہ کر سکے وہ لازماً احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے اور احساس کمتری پھر بہت بھیانک کردار پر منتج ہوتا ہے۔دنیا میں اکثر ٹیڑھے دماغ ، خطر ناک سوچیں سوچنے والے، دنیا کو غلط فلسفے دینے والے، اگر آپ ان کی زندگی کا جائزہ لیں تو زندگی کے کسی نہ کسی دور میں احساس کمتری کا شکار ہوئے ہوتے ہیں۔آنحضور ﷺ نے اپنی عسر اور یتیمی کا دوران کیفیتوں سے متاثر ہوئے بغیر اس شان کے ساتھ گزارہ ہے کہ آپ کے سپر د نیا کا عظیم ترین کام کیا گیا ہے۔یعنی نبیوں میں سے بھی جو کام آپ کے سپر د ہوا ہے وہ کسی اور نبی کو نہ صرف یہ کہ دیا نہیں گیا بلکہ اس کا ایک معمولی حصہ بھی نہیں دیا گیا۔سارے عالم کو خدا تعالیٰ کی چوکھٹ پر لا ڈالا۔ایک ایسے شخص کے سپرد کیا گیا جس کا نہ باپ تھا اور نہ ماں تھی۔لوگوں کے رحم و کرم پر پلتا رہا اور جس نے جب دعوی کیا تو اپنی ساری قوم کلیپ اس کی دشمن ہو گئی یہ حَظِّ عَظِیمٍ کی بات ہو رہی تھی۔صبر کا حصہ ملا تو اتنا بڑا کہ اس کی کوئی مثال دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔پھر آپ کے بیٹے ہوئے۔کہتے ہیں گیارہ بیٹے پیدا ہوئے اور گیارہ کے گیارہ چھوٹی عمر میں بہت بچپن میں یا چند سالوں کے بعد فوت ہو گئے اور ہر بچے کی موت پر دشمن ہنستا تھا اور کہتا تھا کہ دیکھو یہ تو لاولد مرا جاتا ہے اور دنیا کی بادشاہی کے دعوے کرتا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق جب ہم یہ ذکر پڑھتے تھے کہ بشیر اول فوت ہوا تو کس طرح دشمن نے بغلیں بجائیں، کس طرح صحابہ کے دل خون ہوئے اور صحابہ کے بعض واقعات جب پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شدید تکلیف کی حالت میں تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کوئی اثر نہیں تھا۔آپ جانتے تھے کہ خدا کا وعدہ ضرور پورا ہوگا۔یہ بچہ