خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 351
خطبات طاہر جلدا 351 خطبه جمعه ۵ ارمکی ۱۹۹۲ء فوت ہو گیا ہے تو کوئی اور مقدر والا بچہ بعد میں عطا ہو گا لیکن جو صحابہ تھے وہ جانتے ہیں کہ ان کے دل کی کیا کیفیت تھی اس واقعہ کو دیکھ کر جب میرا ذہن حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی طرف جاتا ہے تو ساری روح پکھل کر آپ کے لئے درود بن جاتی ہے۔کتنی عظیم آزمائش تھی ؟ ابتر کہنے والے چاروں طرف پھیلے پڑے تھے۔ہر بچے کی وفات کے بعد ابتر ابتر کے نعرے اُٹھتے تھے تبھی تو قرآن کریم نے یہ ذکر محفوظ فرمایا ہے کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (الكوثر :) اے محمد ! تو دیکھے گا کہ تیرے دشمن ابتر رہ جائیں گے اور ان کی اولادیں تیری اولادیں بن جائیں گی لیکن جہاں تک اس وقت کی دنیا کا تعلق ہے ان کو تو ان باتوں کی سمجھ نہیں تھی کہ روحانی طور پر صلى الله یہ ساری کی ساری قوم محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں لا کر ڈال دی جانے والی تھی وہ تو یہ دیکھتے تھے کہ ایک بیٹا فوت ہوا پھر دوسرا ہوا، پھر تیسرا ہوا ، پھر چوتھا ہوا اور ہر دفعہ ہنسی مذاق اُڑا کر اسے اپنی دانست میں ذلیل اور رسوا کر دیتے ہیں اور نہ محمد ﷺ کچھ کر سکتا ہے نہ محمد ﷺ کا خدا کچھ کر سکتا ہے۔اب دیکھیں ! ہر پیدائش اور ہر موت کے بعد کتنی شدت کے ساتھ یہ طعنہ آپ کے دل کو چیرتا ہوگا لیکن آپ صبر اور عزم کا ایک پہاڑ تھے۔ایک روایت آتی ہے کہ ایک عورت کا بیٹا فوت ہو گیا اور وہ اسکی قبر پر کھڑی شدید تکلیف کی حالت میں گریہ وزاری کر رہی تھی۔آنحضور ﷺ اس کے پاس سے گزرے اور فرمایا بی بی ! صبر کرو۔اس بے چاری کو پتا ہی نہیں تھا کہ یہ کہنے والا کون ہے اس نے کہا کہ صبر اپنا بیٹا فوت ہو تو پتا چلتا صلى الله صلى الله ہے کہ صبر کیا ہوتا ہے؟ پاس سے گزرتے ہوئے آرام سے کہ دیا کہ صبر کرو۔یہ کوئی آسان بات نہیں ہے آنحضور ﷺ نے صرف اتنا کہا بی بی میرے گیارہ بچے پیدا ہوئے اور گیارہ ہی فوت ہو گئے اور یہ کہہ کر آگے چل پڑے۔کسی نے کہا کہ اے ناداں بے وقوف بڑھیا! تو نے کیا بات کی ہے یہ تو محمدمصطفی سے تھے وہ دوڑی دوڑی پیچھے گئی کہ یا رسول اللہ ! مجھے معاف کر دیں میں صبر کرتی ہوں۔آپ نے فرمایا صبر کا ایک وقت ہوا کرتا ہے وہ وقت گزر چکا ہے۔( بخاری کتاب الجنائز حدیث نمبر: ۱۳۵۲) وقت تو ہر ایک کوصبر دے ہی دیتا ہے۔پس آنحضور ﷺ کے متعلق جب یہ فرمایا کہ وہ صبر کرنے والا ہے تو صبر کہ کر نہیں فرمایا۔عام مسلمانوں کے ذکر پر فرمایا۔وَمَا يُلَقْهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا اس عظیم مقصد کو صبر کرنے والوں کے سوا کوئی نہیں پاسکتا اور پھر دیکھیں کہ ہمارے آقا ومولا کوکس طرح جدا کر کے ممتاز