خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 349
خطبات طاہر جلد ۱۱ 349 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۹۲ء پس آپ کی ہمت اگر ٹوٹ جائے تو فرانس کی ہمت ٹوٹ جائے گی ایک قوم کی قسمت آپ کے سپرد کی گئی ہے آپ نے ہمت نہیں ہارنی کیونکہ جب داعی الی اللہ ہمت ہار دیتا ہے تو درحقیقت اُس ساری قوم کی ہمت ٹوٹتی ہے۔نصیحت کرنا بڑا مشکل کام ہے، نصیحت کرنے کے لیے غیر معمولی طاقتوں کی ضرورت ہے اسی لئے قرآن کریم نے صبر کی تلقین فرمائی۔اور یہ وہ دوسرا پہلو ہے جو میں آج آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں فرمایا۔فَإِذَا الَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقْهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّهَا إِلَّا ذُو حَظِّ عَظِيمٍ لیکن یاد رکھو یہ معجزے یونہی رونما نہیں ہو جایا کرتے دشمنوں کو دوست بنانا آسان کام نہیں ہے۔اس کے لئے صبر کی ضرورت ہے۔وَمَا يُلَقْهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُ وا لیکن اس کے علاوہ کچھ اور بھی ضرورت ہے کیونکہ سارا خطاب واحد میں ہے اور اس میں اول مخاطب حضرت محمد مصطفی ملتے ہیں اور آپ کو جو صبر عطا ہوا تھا وہ لفظ صبر کے تابع پوری طرح بیان نہیں ہوسکتا تھا اس لئے جہاں عام مومنوں کے صبر کا ذکر فرما کر جمع کے صیغہ میں یہ کہا کہ وَمَا يُلَقَّهَا إِلَّا ذُو حَظِّ عَظِيمٍ تو وہاں ساتھ ہی پھر واحد کی بات کی ہے کہ وَمَا يُلَقْهَا إِلَّا ذُو حَظِّ عَظِیمٍ اس جمع کا ذکر چھوڑ دیا ہے جس طرح پہلے گ۔ک۔ک یعنی تو، تو تو ، کر کے مخاطب کیا جا رہا تھا۔مومنوں کا عمومی ذکر کرتے ہی خدا پھر واپس اسی مضمون کی طرف پلٹا ہے اور محمد مصطفی ﷺ کے متعلق فرمایا ہے وَمَا يُلَقَّهَا إِلَّا ذُو حَظِّ عَظِيمٍ۔اس عظیم مقصد کو ایک عظیم اخلاق کا حصہ دیئے گئے انسان کے سوا اور کوئی پورانہیں کرسکتا۔وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں ان کو بھی ملے گا اور اصل کامیابی جو غیر معمولی اور اعجازی کامیابی ہے وہ اس کو ملے گی جس کو حظ عظیم عطا ہوا ہے۔حظ حصے کو کہتے ہیں ٹکڑے کو کہتے ہیں اور بہت عظیم ٹکڑا ملا ہے کس چیز کا ٹکڑا یہ بیان نہیں فرمایا۔صبر کی بات ہو رہی ہے اس لئے پہلے ذہن صبر کی طرف جاتا ہے اور اس پہلو سے جب ہم آنحضور ﷺ کو دیکھتے ہیں تو بلاشبہ ان سے بڑا صا بر انسان کبھی اس دنیا میں پیدا نہیں ہوا۔ہر میدان میں ،صبر کی ہر آزمائش میں آپ اس شان سے پورے اُترے ہیں کہ اس کی کوئی مثال کہیں بھی دکھائی نہیں دیتی۔ذاتی نقصان کی کیفیت دیکھ لیجئے اپنے عزیزوں اور پیاروں کے دُکھ برداشت کرنے کی کیفیت دیکھ لیجئے۔صبر کے جتنے بھی امتحان آسکتے ہیں وہ سب آنحضور ﷺ پر زندگی کے مختلف حصوں