خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 279
خطبات طاہر جلد ۱۱ 279 خطبہ جمعہ ۱۷ را پریل ۱۹۹۲ء کے نہ ہو جائیں جس پر آج بعض تو میں فائز ہیں۔اس وقت تک ان کا معاشرہ اختیار کرنے سے آپ کو عزت نصیب نہیں ہو سکتی، یہ ناممکن ہے۔مشرق میں جاپان ایک بڑی قوم کے طور پر ابھرا ہے اس کے متعلق بعض دانشوروں نے لکھا۔یہ غالباً جاپان ہی کے کسی دانشور کی بات ہے کہ جاپان نے ہر طرح مغرب کی نقل اتاری لیکن برابری نہ ہو سکی لیکن جب جاپان نے طاقت اختیار کر لی اور اقتصادی لحاظ سے غالب آ گیا اسلحہ کے لحاظ سے بھی اور فنون حرب کے لحاظ سے بھی ایک طاقت بن کر اُبھرا تو پھر ہم برابر کے ہو گئے۔تو یہاں برابری اور غیر برابری کا مسئلہ قومیتوں کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ دنیا میں طبعی طور پر بعض فوقتوں کے رکھنے اور بعض فوقتوں کے نہ رکھنے کے نتیجہ میں ہواگر مشرق کے وہ حالات ہوں جو آج مغرب کے ہیں تو مغرب بھی خواہ جتنا چاہیں مشرق کی نقل اتارے ان کے برابر نہیں ہو سکے گا۔پس ان معنوں میں میں سمجھا رہا ہوں کہ اس میں قومی اور نسلی تفریق کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے۔جسے قرآن کریم نے بیان فرمایا۔فرمایا وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا تمہیں اس کے نتیجہ میں نقصان تو پہنچے گا، تمہارے حصہ میں آگ تو آئے گی لیکن اولیاء نصیب نہیں ہوں گے۔کمزوروں اور غریبوں کا ایک ہی ولی ہے اور وہ اللہ ہے۔وہی ہے جو آسمان سے اتنا جھکتا ہے کہ زمین کے پست ترین رہنے والوں سے بھی تعلق قائم کر لیتا ہے اور تحت الشری میں بسنے والوں سے بھی ایک تعلق قائم کر لینا ہے۔اس کے سوا کوئی دوسرا ولی ہو ہی نہیں سکتا۔انسان تو بنیادی طور پر متکبر ہے اور ذراسی اس کو فضیلت حاصل ہو جائے تو نچلے آدمی کو نچلا ہی سمجھتا ہے۔اور اس کے ساتھ جھک کر اُس سے برابری اختیار نہیں کیا کرتا۔تو مشرق میں بسنے والے احمدیوں پر جہاں ظلم ہورہے ہیں ان کے لئے بھی یہ نصیحت اُسی طرح کارگر ہے جس طرح مغرب میں بسنے والے احمدیوں پر جو غیر اسلامی معاشرے سے متاثر ہو کر ان لوگوں کے رنگ اختیار کرنے لگتے ہیں۔جہاں جہاں اسلامی قدروں کو قربان کر کے وہ رنگ اختیار کرتے ہیں، وہاں وہ گھاٹے میں ہیں جہاں ان قدروں کو قربان کئے بغیر اچھی باتیں اور دنیا کے لحاظ سے بے ضرر باتیں اختیار کرتے ہیں وہاں وہ خوبی بن جاتی ہے۔پس احمدی کو بالغ نظر ہوتے ہوئے اس طرح معاملات کا تجزیہ کرنے کے بعد آخری فیصلہ سچائی کے حق میں دینا چاہئے اور اسی کا نام تقویٰ ہے، اس کا نام عقل کل ہے اگر جماعت احمد یہ کچے