خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 278 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 278

خطبات طاہر جلد ۱۱ ہے کہ فراست سے کام کرے۔278 خطبہ جمعہ ۱۷ارا پریل ۱۹۹۲ء معاشرے دو طرح کے ہوتے ہیں ایک قومی عادات اور روایات کی بناء پر جن کا مذہب سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔وہاں ہر احمدی کی قوم سے محبت اور وفا کا تقاضا یہ ہے کہ ان حصوں کو اپنالے جن حصوں میں خدا چھوڑ کر کوئی معاشرہ اختیار نہیں کرنا پڑتا یا معاشرتی اطوار اختیار نہیں کرنے پڑتے۔لیکن ایک وہ معاشرہ ہے جو کل عالم کا مشترکہ معاشرہ ہے جسے اسلام قائم کرنا چاہتا ہے وہ اعلیٰ اخلاقی کردار پرمبنی معاشرہ ہے اس کا کسی قومیت سے تعلق نہیں۔وہ اسی طرح انگریز کا ہے جیسے ہندوستانی کا، اسی طرح جاپانی کا ہے، جیسے پاکستانی کا ، نہ مشرق کا فرق نہ مغرب کا وہ معاشرہ بین الاقوامی معاشرہ ہے یعنی نور محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا معاشرہ ہے جس کے متعلق فرمایا لَّا شَرْقِيَّةِ وَلَا غَرْ ( النور : ۳۶) وہ ایسا معاشرہ ہے جس کو نہ تم مشرق کا قرار دے سکتے ہو نہ مغرب کا۔یہ وہ معاشرہ ہے جس کی حفاظت ہر احمدی کا فرض ہے ورنہ اس آیت کا بطلان لازم آئے گا، اس کا انکار لازم آئے گا۔فرمایا وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا ظَلَمُوا سے مراد ضروری نہیں کہ جسمانی طور پر یا اقتصادی طور پر کسی پر ظلم کیا جائے۔ظَلَمُوا سے مراد شرک ہے۔شرک کرنے والے، بدیاں کرنے والے، گناہ کرنے والے لوگ ، خدا ہر قسم کی دوری اختیار کرنے والے، یہ سارے ظالم ہیں اور قرآن کریم میں ظلم کی اصطلاح ہر قسم کی تاریکی پر اطلاق پاتی ہے تو فرمایا کہ جن معاشروں میں خدا سے دوری کی تاریکی موجود ہے اس تاریکی کو نہ اپنا لینا اگر تم نے اپنا لیا تو یہ بھی جھوٹ بولتے ہیں کہ تمہیں اپنا سمجھ لیں گے۔اگر تم مشرقی ہو تو مشرق مشرق ہی رہے گی۔یا درکھنا کہ مغرب مغرب ہی رہے گی یہ دونوں اس طرح امتزاج اختیار نہیں کر سکتے کہ ایک ہو جائیں۔اس کی وجہ مشرقیت اور مغربیت نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض تو میں طاقتور ہیں اور بعض کمزور ہیں اور کمزور قو میں جب طاقت والوں کے رنگ اختیار کرتی ہیں اور ان کی نقلیں اتارتی ہیں تو طاقتور قو میں ظاہری طور پر ان سے حسن سلوک بھی کریں لیکن نفسیاتی طور پر وہ اس یقین پر اور زیادہ قائم ہو جاتی ہیں کہ یہ گھٹیا اور ذلیل لوگ ہیں اور اُن کا احساس برتری پہلے سے بھی بڑھ جاتا ہے اس لئے کمزور قو میں خواہ احساس کمتری کا شکار ہوں یا اس کے بغیر ہوں جب تک وہ عقل اور اقتصادیات اور دنیاوی ترقی کے لحاظ سے اسی پلیٹ فارم پر برابر