خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 275 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 275

خطبات طاہر جلد ۱۱ 275 خطبہ جمعہ ۷ ار ا پریل ۱۹۹۲ء انتقام کی جو طبعی بات ہے پیاس کو پورا نہ کریں بلکہ وہ انتقام لیں جو حضرت محمد ﷺ کا انتقام تھا جس نے فتح مکہ کے وقت انتقام کی ایک ایسی نئی تاریخ قائم کر دی جس کی ایک چھوٹی سی مثال یوسف اور اس کے بھائیوں کے معاملے کے طور پر قرآن کریم میں بیان ہوئی لیکن بہت محدود مثال تھی۔ایک بھائی نے اپنے بھائیوں کو معاف کیا تھا لیکن حضرت محمد مصطف مے ایک نئی شان یوسفی کے ساتھ دنیا کے سامنے جلوہ گر ہوئے اور شدید ترین دشمنوں کو بھی آپ نے ان واحد میں معاف فرما دیا۔ایسے دشمنوں کو بھی معاف فرما دیا جنہوں نے آپ کے محبوب صحابہ نجیسے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے۔ان کا کلیجہ نکال کر چبا لیا ان کو بھی معاف فرما دیا گیا۔پس وہ شان یوسفی ہے جو دنیا کو بچانے والی شان ہے جس کے نتیجہ میں اس عالم کی بقا کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں اگر جماعت احمدیہ نے وہ شان نہ دکھائی تو یہ دنیا ہلاک شدہ سمجھیں۔جو آثار میں دیکھ رہا ہوں نہایت ہولناک اور خوفناک ہیں۔تو میں خواہ وہ ترقی یافتہ ہوں یا غیر ترقی یافتہ ہوں سب ظالم ہو چکی ہیں اور ظلم ایک دوسرے کے خلاف چڑھائی کر رہا ہے ظلم ایک دوسرے کے خلاف موجیں مار رہا ہے۔بعض حالات میں طاقتور ظالم دکھائی دیتا ہے اور کمزور ظالم نہیں دکھائی دیتا لیکن کمزوری کو جب پردے میسر آجائیں جب وہ چھپ کر ظلم کر سکے اُس وقت اگر وہ ظلم سے باز رہے تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کمزوری تو ہے ظلم نہیں ہے لیکن جہاں کمزوری کو کوئی ناواجب سہارا مل جائے ، جہاں اخفاء کے پردے پڑ جائیں وہاں اگر کمزوری ظلم کرے تو اس کمزوری کو بھی ظالم کمزوری کہیں گے مظلوم کمزوری نہیں کہیں گے۔پس انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ آپ تقویٰ سے لولگائیں اور تقویٰ کی وفا اختیار کریں۔سچائی سے چمٹیں اور قومیتوں کے فساد سے کنارہ کش ہو جائیں کیونکہ یہ فساد دنیا کو ہلاک کرنے والے فساد میں۔رنگ ونسل کی تمیز سے بالا ہو کر اگر آپ نے دنیا کو ہدایت اور نیکی کی طرف بلایا تو پھر آپ میں یہ قدرت ہوگی کہ آپ تمام عالم کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کر دیں۔اگر آپ نے رنگ ونسل سے بالا ہونے کی صلاحیت اختیار نہ کی تو آپ خود بھی ڈوبیں گے اور دوسری قوموں کو بھی لے ڈوبیں گے اور احمدیت کی فتح کا ان اداؤں کے ساتھ کوئی امکان نہیں ہے۔لیکن ہم نے ضرور فتح یاب ہونا۔اس لئے مجھے یقین ہے کہ جماعت احمد یہ انشاء اللہ تعالی وقتی تکلیفوں اور جذبات کو قربان کرتے ہوئے اعلیٰ اقدار کی لازماً حفاظت کرے گی اور قومی تفریقات اور نسلی امتیازات سے بالا ہو کر حق کے ساتھ چمٹی رہے گی اور حق کے ساتھ اور صبر