خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 274
خطبات طاہر جلد ۱۱ 274 خطبہ جمعہ ۱۷ارا پریل ۱۹۹۲ء قبل ازیں میں یہ بیان تو کرتا رہا لیکن بعض علماء کہتے تھے کہ طائف کے ساتھ اس روایت کا تعلق نہیں یہ دعا کسی اور موقع پر کی گئی تھی مگر چند دن ہوئے ہیں مجھے قطعی طور پر تاریخی حوالہ مل گیا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف کے موقع پر بھی یہ دعا کی کہ اللـهـم اهــد قـومـي فانهم لا يعلمون اے میرے اللہ ! اس قوم کو ہدایت دے یہ نہیں جانتے۔تو دیکھیں سنت یونس اور سنت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کتنا فرق ہے وہاں قوم کی ندامت اور پشیمانی نے قوم کو بچایا ہے۔یہاں قوم کوکوئی ندامت نہیں تھی، کوئی پشیمانی نہیں تھی لیکن حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت بیکراں نے ان کو بچایا ہے۔آپ کے دل میں رحمت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ظالموں کے حق میں بھی آپ دعا کرنے والے تھے۔یہ واقعہ میں نے خصوصیت کے ساتھ جماعت کے سامنے اس لئے رکھا ہے کہ صرف پاکستان کے مظالم کا سوال نہیں ہے۔تمام دنیا میں جماعت کے خلاف مظالم کرنے کا Potential بنیادی طور پر اہلیت موجود ہے۔جہاں بھی آپ ترقی کریں گے آپ کے خلاف سازشیں ہوں گی، جہاں بھی آپ ترقی کریں گے آپ کے خلاف مظالم ہوں گے اور مظالم کی یہ تاریخ بار بار دہرائی جانے والی تاریخ ہے۔یہ نہ سمجھیں کہ پاکستان میں حالات تبدیل ہو گئے تو اس کے بعد ہمیشہ کے لئے آپ کے لئے آسانی اور سبک رفتاری کا سفر ہو گا ہر قدم پر روکیس پڑنے والی ہیں۔جس جس ملک میں آپ سر اٹھا ئیں گے اور جس جس ملک میں آپ کا سر اٹھانا ایک قوت کے ساتھ ہوگا، ایسی علامتیں رکھتا ہوگا کہ اُس سے دشمن یہ سمجھے کہ اب یہ غالب آنے والے ہیں وہاں کیسا ہی مہذب ملک کیوں نہ ہو لازماً آپ کی شدید مخالفت ہوگی اور یہ لمبا سفر ہے تو کس کس کی ہلاکت کی دعا کریں گے، کس کس کی تباہی چاہیں گے۔گویا آپ سب دنیا کو بچانے کی بجائے ساری دنیا کو ہلاک کرنے کے لئے مبعوث فرمائے گئے ہیں۔اس لئے آج پاکستان کے حق میں جو ردعمل دکھانا ہے وہی رد عمل ساری دنیا کے متعلق ہمیشہ کے لئے آپ کا طے شدہ رد عمل ہے اس لئے قرآن کریم نے جو نصیحتیں سورہ ھود کے آخر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمائیں وہ میں نے آپ کے سامنے پڑھ کرسنا دی ہیں اور اب میں ان کا ترجمہ بھی کرتا جاتا ہوں اور جہاں مناسب ہوا اُس کی تشریح کروں گا تا کہ آپ کو بتاؤں کہ جماعت کو کس کردار کو اپنانا ہے اور اس سے چمٹ جانا ہے۔بدی چاہتے ہوئے اپنے