خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 273
خطبات طاہر جلد ۱۱ 273 خطبہ جمعہ ۱۷ارا پریل ۱۹۹۲ء سے مطلع کروں تا کہ آپ حضرت یونس کی قوم والی دعائیں نہ کریں بلکہ وہ دعائیں کریں جو حضرت ر مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قوم کے لئے کی تھیں۔حضرت یونس کی قوم کو نجات ملی لیکن یونس کی دعا کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اس قوم نے جب عذاب کو اپنے سر پر کھڑے دیکھا اور حضرت یونس کے اپنے ملک کو چھوڑ کر ہجرت کر جانے کے بعد ان کو اچانک یہ احساس ہوا کہ سب سے نیک انسان وہی تھا جو ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ہے اور اب اگر عذاب آ جائے تو بعید نہیں ہے۔اس قسم کے اور اس سے ملتے جلتے احساسات نے انہیں گریہ وزاری پر مجبور کیا اور جب ان کا عذاب ٹل گیا تو حضرت یونس کا رد عمل اس سے بالکل مختلف تھا جو حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رد عمل تھا۔آپ کا رد عمل اور قوم کے ساتھ آپ کا جو رشتہ تھا وہ بھی تاریخ کو دہرانے والا ایک رشتہ تھا مگر بہتر کر کے دہرانے والا۔یونس کی تاریخ کو اس رشتے نے دُہرایا مگر بہت بہتر شکل میں اور بدلے ہوئے انداز کے ساتھ۔قوم بچ تو گئی جس طرح یونس کی قوم بچی تھی مگر ایک نئی شان کے ساتھ بچائی گئی اور وہ شان، شانِ محمدی ہے جس کے نتیجہ میں قوم پر فضل ہوا۔سفر طائف کے دوران حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اہل طائف نے جوانتہائی ظالمانہ اور بہیمانہ سلوک فرمایا۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اس بات پر آمادہ دکھائی دیتا ہے اور اس غرض سے فرشتے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیغامبر بنا کے بھیجے جاتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو یہ قوم ان پہاڑوں کے نیچے کچلی جائے اور ہمیشہ کے لئے ان کا نشان مٹ جائے۔یہ فرشتے بھیجنا اس بات کو ظاہر نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مٹانے کا فیصلہ کر لیا تھا بلکہ خدا تعالیٰ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کو نمایاں کر کے دنیا کے سامنے سورج کی طرح روشن صورت میں دکھانا چاہتا تھا اور یہ بتانا چاہتا تھا کہ اس شان کے نبی بھی دنیا میں آئے ہیں اور سب شانوں سے بڑھ کر محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ہے۔جب ابھی زخموں سے خون رس رہا تھا ، جب بدن کا انگ انگ دکھ رہا تھا ، انتہائی درد ناک حالت میں آپ دعا کر رہے تھے تو اس وقت فرشتے ظاہر ہوتے ہیں اور آپ کا یہ جواب ہے کہ اے خدا! میں نہیں چاہتا کہ یہ قوم ہلاک ہو۔یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں اور کس سے کر رہے ہیں؟ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ نے وہاں بھی یہ دعا کی جو ایک اور موقع پر بھی فرمائی کہ اللهم اهد قومی فانهم لا يعلمون (مسند احمد جلد ۴ صفحه: ۳۳۵)