خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 264 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 264

خطبات طاہر جلدا 264 خطبه جمعه ۱۰ را پریل ۱۹۹۲ء ان کو یاد دلایا جائے کہ تم نے وہیں آنا ہے جہاں میں جارہا ہوں لیکن تیاری کر کے آنا۔اگر مجھ سے غفلت کی حالت میں کچھ دن بسر ہو گئے تو میرے لئے بخشش کی دعا مانگنا لیکن خود اس بات کو خوب با ہوش طرح ذہن نشین کر کے رکھنا کہ میں نے بھی آخر خدا کی طرف لوٹنا ہے اور اس کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔یہ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ کا جو پیغام ہے یہ بہت ہی زندگی بخش ہے اور موت سے زندگی حاصل کرنے کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بکثرت اور بار بار نصیحت فرمائی ہے۔آپ کے ملفوظات میں بھی اور کتب میں بھی عام تحریرات میں بھی یہ بات کثرت سے ملتی ہے کہ موت سے سبق سیکھو اور ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھو کہ تم نے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ نظم کہ اک نہ اک دن پیش ہوگا تو فنا کے سامنے چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے (درین صفحہ ۱۵۷) یہی مفہوم پیش کر رہی ہے اور یہی توجہ دلا رہی ہے کہ اپنے مرنے کی تیاری رکھو۔بعض دفعہ نو جوان یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی لمبی زندگی پڑی ہوئی ہے بڑا وقت ہے۔کچھ دیر دنیا کی عیش کر لیں بعد میں دیکھی جائے گی لیکن موت کی تو خبر ہی کوئی نہیں ، اس کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔خدا جب چاہے جس کو چاہے بلا لے اس لئے اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ کا پیغام سمجھنے کے بعد اس دعا کی طرف بھی انسان کی توجہ ہوتی ہے کہ وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ (ال عمران : ۱۹۴) کہ اے اللہ ! ہم غفلت کی حالت میں بہت سا وقت گزار چکے اور ایسی حالتیں اور بھی ہم پر آسکتی ہیں کہ جب ہم تیرے ہوتے ہوئے غیر کے ہو جائیں لیکن ہماری یہ التجا ہے کہ ہمیں نہ بلانا جب تک کہ ہم تیرے نہ ہو چکے ہوں۔وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ کا یہی مطلب ہے کہ ابرار کے ساتھ شمار کرنا اور ابرار اُن لوگوں کو کہا جاتا ہے جن کی نیکیاں ان کی کمزوریوں پر غالب آچکی ہوں۔جب وہ مریں تو خدا کے حضور نیکوں میں شمار ہو جائیں۔پس اپنے لئے یہ دعائیں بھی کرتے رہنا چاہئے۔جو شخص موت سے باخبر رہے اُسے زندگی میں ہی ایک نئی زندگی مل جاتی ہے اور اِنَّا لِلهِ کے پیغام کے سمجھنے کے نتیجہ میں ایک انسان عالم بقا میں داخل ہو جاتا ہے۔اِنَّا لِلہ کا پیغام آپ کو موت سے ڈراتا نہیں بلکہ موت کے خوف کو مار دیتا ہے۔اگر آپ اس پیغام کو پوری طرح سمجھ لیں تو