خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 263
خطبات طاہر جلد ۱۱ 263 خطبه جمعه ۱۰ را پریل ۱۹۹۲ء پر تو نہیں بلکہ ہمیں اپنے اوپر پڑھنا چاہئے پس اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ کا پیغام یہ ہے کہ اے خدا ! ہم سمجھ گئے ہم نے اس حقیقت کو پالیا کہ ہم تیرے ہی ہیں تجھ ہی سے وجود میں آئے تھے لِلهِ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ تیرے ہیں بلکہ یہ ہے کہ تجھ سے ہی پیدا ہوئے ، تیری ہی ذات حقیقی اور دائمی ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں جو کچھ وجود میں آتا ہے وہ تجھ سے وجود میں آتا ہے اور جو خالق ہے وہی مالک بھی ہوا کرتا ہے۔پس إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ میں یہ ساری باتیں شامل ہیں کہ اے خدا ! ہم اس لئے تیرے ہیں کہ تیرے ہی سے وجود میں آئے تو نے عدم سے ہمیں وجود کی خلعت بخشی اور ہما را تجھ سے جدائی کا سفر ایک دن ختم ہو جائے گا اور پھر لوٹ کر تیری ہی طرف واپس آئیں گے۔تجھ سے الگ رہ کر جو ہماری زندگی کا عرصہ گزرا اس عرصہ میں ہم نے جو کچھ پایا کیا اس کا جواب ہم نے تجھے دینا ہے اور کس کیفیت میں یہ جدائی کا عرصہ گزرا اس کیفیت کی طرف اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ آپ کو متوجہ کر رہا ہے اور آپ کو خبر دار کر رہا ہے۔کیا خدا کے ہوتے ہوئے اور خدا کا رہتے ہوئے آپ نے خدا سے علیحدگی کا یہ وقت گزارا یا غیروں کا بن کر یہ وقت گزارتے رہے اگر اس عرصہ میں غیر کے ہو گئے تو پھر کس منہ سے خدا کی طرف واپس جائیں گے۔یہ پیغام ہے جس کو ہر اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھنے والے کو سمجھنا چاہئے اور اس کے نتیجہ میں اپنے اندر کچھ پاک تبدیلیاں کرنی چاہئیں۔سب سے پہلے تو یہ شعور بیدار ہونا چاہئے کہ ہم اس دنیا میں جس کے مرضی ہو چکے ہوں حقیقت میں ہم خدا کے ہیں وہی مالک ہے۔نہ ہم اپنی بیوی کے نہ اپنی بہن کے نہ ماں کے نہ باپ کے نہ بچوں کے جس کے ہیں اسی کی طرف جائیں گے اور جب وہ بلائے گا ہمیں اختیار نہیں ہے کہ نہ کر سکیں تو ہم جب دوسروں کے بنتے ہیں تو کیا دوسروں کے بنتے ہوئے خدا کو چھوڑ تو نہیں دیتے ؟ کیا خدا سے تعلق قطع کر کے غیروں کے تو نہیں بن رہے؟ اگر ایسی حالت میں غیروں کے بن رہے ہیں تو جب آپ خدا کی طرف جائیں گے تو غیر بن جائیں گے غیر ہو کر جائیں گے اور اس صورت میں آپ خدا کے سامنے جواب دہ بھی ہوں گے اور محاورے کے مطابق فی الحقیقت اسے منہ دکھانے کے لائق نہیں رہیں گے۔پس ہر موت سے زندگی کا ایک پیغام ملتا ہے اور ہر موت سے ہمیں زندگی کا پیغام حاصل کرنا چاہئے۔اگر ایک مرنے والا اپنے پیار کرنے والوں کو زندہ کر جائے تو کتنی مبارک موت ہے۔اگر ان کے اندر زندگی کا ایک شعور بیدار کر جائے اور