خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 265
خطبات طاہر جلد ۱۱ 265 خطبه جمعه ۰ اراپریل ۱۹۹۲ء آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ خدا کے ہیں خدا کے ساتھ رہ رہے ہیں اور خدا کے ساتھ رہیں گے اور اسی طرف واپس جائیں گے۔خدا تعالیٰ کے قرب کا جو دائمی احساس ہے اور اس کا ہور ہنے کا احساس ہے۔یہ پیغام جو آپ کو ملتا ہے کہ تم اس کے ہو تو اس کے بن کر دکھاؤ یہ ایک ایسا زندگی بخش پیغام ہے جو انسان کو عالم بقا میں لے جاتا ہے۔موت کی دہلیز اس کی پہلی اور دوسری زندگی میں کوئی فرق نہیں کرتی بلکہ ایک قدم اُٹھانے والی بات ہے۔ایک قدم یہاں سے اُٹھا دوسری طرف چلا گیا لیکن یہ لوگ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جاتے ہیں۔پس اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ کے پیغام میں بقاء کا پیغام ہے۔میں نے اپنی بچیوں کو ان کی والدہ کی وفات پر جو باتیں سمجھائیں ان میں ایک یہ بات بھی تھی کہ میں نے بہت غور کیا ہے۔مجھے موت کا کوئی ڈر خوف نہیں ہے ،خدا کے حضور پیشی کا ڈر ہے لیکن موت کا ڈر کوئی نہیں۔میرے لئے تو بالکل معمولی حیثیت ہے جس طرح آج آئے کل آئے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر فکر ہوتی ہے تو صرف ان لوگوں کے غم کی جو پیچھے رہ جائیں گے۔اس کے سوا مجھے موت کے تصور میں کوئی بھی اجنبیت دکھائی نہیں دیتی ، کوئی بھی تکلیف دہ بات نہیں ہے جس کے نتیجہ میں پریشان ہوں اور یہ جو پیغام مجھے ملا ہے یہ اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ کے نتیجہ میں ملا ہے۔میں نے جب اس پر غور کیا تو مجھے سمجھ آئی کہ ہم جس کے ہیں کل جب اس کی طرف لوٹیں گے تو اس وقت اس کے نہیں ہوں گے بلکہ اس لئے لوٹیں گے کہ اس کے ہیں۔ان دو چیزوں میں فرق ہے۔اس کی طرف لوٹ کر اُس کے نہیں ہوں گے بلکہ ہیں اس لئے لوٹیں گے اور اگر اس کے ہیں اور اس کے باوجود اس کے نہ رہے ہوں تو پھر خوف کا مقام ہے۔پھر بہت ہی دردناک اور تکلیف دہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔جہاں تک لوٹنے کا تعلق ہے اس انجام کوتو کوئی ٹال ہی نہیں سکتا جو چاہے کر لے۔بڑے سے بڑا آدمی بھی جائے گا ، چھوٹے سے چھوٹا بھی آدمی جائے گا، بوڑھا بچہ ہر ایک نے آخر وہاں ضرور جانا ہے۔بڑے بڑے اطباء جن امراض کے ماہر ہوتے ہیں بسا اوقات اللہ تعالیٰ کی تقدیران کو دکھاتی ہے کہ اصل غلبہ میرا ہی ہے اور وہ انہی مرضوں سے مرتے ہیں جن مرضوں کی شفا میں وہ شہرت پاچکے ہوتے ہیں۔ہمارے پاکستان کے بڑے بڑے ہارٹ سپیشلسٹ تھے جو دل کی بیماری سے گئے۔اُن کا علم ان کے کام نہیں آسکا۔پس شفاء کا علم بھی اور دعا بھی یہ دونوں چیزیں موت کے سامنے عاجز آجاتی ہیں اور اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ نے جس قوت کے ساتھ اس مضمون کو ہمارے