خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 208
خطبات طاہر جلدا 208 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء ہاتھ ہاتھ پھیر نے تھپکانا، پیار کرنا۔پانی کے چھینٹے دینے ورنہ وہ دولتیاں بھی مارتی ہیں اور سینگ بھی مارتی ہیں۔تو مختلف مزاج کے لوگ ہیں ان کو سمجھنا چاہئے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دعوت الی اللہ کے مضمون میں ہر جگہ حکمت کو پہلے رکھا ہے ہر دوسری چیز کو بعد میں۔پس حکمت کے تقاضے یہ ہیں کہ پہلے اس کے دل کو اپنے لئے نرم کرو، اپنے لئے دل نرم کرنے کے بعد پھر ایسے ذرائع اختیار کرو کہ اسلام کے لئے اس کا دل نرم ہونا شروع ہو اور جوں جوں دل نرم ہو اُس سے استفادہ کرو اور مناسب حال تبلیغ کرو ، مناسب حال اس کو کتب مہیا کرو اور یہ وہ سلسلہ ہے جو پھر رفتہ رفتہ خود بخود بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔پہلے طلب پیدا کرنی ضروری ہے، اس نکتہ کو آپ اچھی طرح سمجھ جائیں۔اگر طلب پیدا کئے بغیر آپ نے احسان کا بدلہ حاصل کرنے کی کوشش کی تو یہ احسان اُلٹ ہو جائے گا اور بے کار جائے گا۔پس تعلقات کے دائرے وسیع کر کے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے رفتہ رفتہ مضمون کھول کر آگے بڑھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام ایک بہت زیادہ گہرا اثر رکھنے والا کلام ہے اور اس سے بھی بھر پور استفادہ کرنا چاہئے۔بعض دفعہ آنحضرت ﷺ کی محبت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نعتیہ کلام سنایا جائے تو اس سے دل پر گہرا اثر پڑتا ہے۔پھر بعض دفعہ ابتدا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ اقتباسات پیش کئے جائیں جو حضور اکرم ﷺ کی شان میں ہیں تو اس کے دل پر گہرا اثر پڑتا ہے۔پس ہر شخص کے حالات دیکھ کر اُس کے مطابق اس کے ساتھ رفتہ رفتہ سلوک ہونا چاہئے۔بہت سے احمدی ایسے ہیں جنہوں نے مجھے بتایا کہ ہم نے تبلیغ سے پہلے آپ کے خطبات سنانے شروع کئے اور وہ خطبات سنائے جن میں براہ راست کو ئی تبلیغ نہیں ہے۔تربیت کے مضمون سے تعلق رکھنے والے ہیں ، عبادت کے مضمون سے ، گلف کے مضمون سے وغیرہ وغیرہ اور ان کو سننے کے بعد سننے والے کے دل میں خود ایک طلب پیدا ہوئی اور انہوں نے ہم سے مطالبے شروع کئے اور ہم نے ان کو لٹریچر دینا شروع کیا۔ایک پٹھان دوست جو آزاد علاقے کے رہنے والے ہیں وہ اس وقت جمعہ میں میرے سامنے موجود ہیں انہوں نے مجھے خود بتایا ہے کہ میرے دل میں تو احمدیت کی محبت کی وجہ خطبات