خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 207
خطبات طاہر جلدا 207 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء مناسب حال اس قسم کی کتابیں دیں گے تو اُس کے نتیجہ میں اُن کی غلط فہمیاں دور ہوں گی ان کو احمدیت میں اس لحاظ سے دلچسپی پیدا ہوگی کہ ان کا دل گواہی دے گا کہ یہ نور ہے یہ روشنی عطا کرنے والی چیز ہے۔اسی طرح مثلاً Introduction to the study of the Holy Quran ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ نے قرآن کریم کے تعارف میں ایک بہت ہی عمدہ مقالہ لکھا ہوا ہے۔بعض لوگ وہ پہلے عیسائیوں کو دیتے ہیں۔اب میرے نزدیک یہ بعض صورتوں میں تو درست ہے مگر بہت سی صورتوں میں یہ درست نہیں ہے کیونکہ وہ عیسائیوں کے خلاف اس قدر شدید حملہ ہے جس کو آپ سے مضبوط تعلق قائم نہ ہو یا اسلام میں گہری دلچسپی پیدا نہ ہوئی ہو بعض دفعہ وہ اس حملے کی تاب نہ لا کر آپ سے بھی بھاگتا ہے اور اسلام سے بھی بھاگتا ہے اور بعض دفعہ اس کے دل میں محبت کی بجائے ایک نفرت پیدا ہوتی ہے جو کمزوری کے احساس سے پیدا ہوتی ہے وہ محسوس کرتا ہے کہ میں اس دشمن سے لڑ نہیں سکتا اور اس کے نتیجہ میں اس کی کمزوری نفرت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کے پاس ایک دفعہ ایک امریکن سفیر نے یہ شکایت کی کہ مجھے (اسلام میں ) تھوڑی سی دلچسپی پیدا ہوئی تھی تو مجھے کسی نے آپ کی کتاب Introduction to the study of the Holy Quran دی۔آپ نے تو بہت سخت حملے کئے ہیں بالکل ناواجب حملے کئے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تم نے وہ حملے نہیں دیکھے جو غیر سینکڑوں سال سے اسلام پر کر رہے ہیں اب اگر ہم ان کا دفاع کریں تو تم لوگ کہتے ہو کہ یہ سخت ہیں۔جب تم سختی کرتے ہو تو تمہیں اس وقت احساس نہیں ہوتا۔ایک ہند و پرائم منسٹر نے بھی مجھ سے بات کی کہ آپ کی فلاں کتاب میں بہت سختی کی گئی ہے اور وہ یہی کتاب تھی۔اب اگر یہی کتاب کسی مسلمان کو دیں تو بالکل برعکس نتیجہ نکلے گا۔پہلے مسلمانوں کو دیں اور مسلمان جب یہ پڑھ لیں گے تو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی کہ احمد بیت اس طرح اسلام کا دفاع کرتی ہے تو اُن کے لئے یہ تبلیغ کا ذریعہ بن جاتی ہے اور یہی کتاب ایک عیسائی کے لئے اس وقت تبلیغ کا ذریعہ بنتی ہے جب آپ چند منازل طے کر چکے ہوں کسی حد تک اس کے مضمون سے شناسا کر چکے ہوں اور جیسا کہ میں پسمانے“ کا لفظ استعمال کرتا رہا ہوں اُس کے لئے پسمانے کی منزل ذرا دیر میں آئے گی۔بعض گائیں بڑی کڑوے مزاج کی ہوتی ہیں ان کے لئے کافی محنت کرنی پڑتی ہے