خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 209

خطبات طاہر جلدا 209 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء تھے۔مجھے ایک احمدی دوست ایک دفعہ مسجد پہنچا گیا یہ دکھانے کے لئے دیکھو تو سہی ہم کیسے نماز پڑھتے ہیں خطبہ کیسا ہوتا ہے۔اس کے بعد پھر ایسا شوق پیدا ہوا کہ ہر خطبہ میں یہیں آ کر سنتا ہوں اور ہر جمعہ یہیں ادا کرتا ہوں اُن کو سننے کے بعد کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میرے دل میں یہ بات میخ کی طرح گر گئی ہے کہ آپ بچے ہیں اس لئے مجھے اب اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔جو آپ کہیں گے میں ٹھیک سمجھوں گا اور ٹھیک کہوں گا اور چنانچہ وہ اللہ کے فضل سے بڑی وفا کے ساتھ احمدیت کے ساتھ تعلق میں نہ صرف قائم رہے بلکہ بڑھتے چلے جارہے ہیں اور اپنے ماحول میں بھی اردگر داحمدیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔تو طریق کار کا صحیح ہونا بہت ہی اہم ہے اور طلب پیدا کرنے سے پہلے دعوت دینا ظلم کے مترادف ہے۔ایسی زمین میں بیچ پھینکنے کے مترادف ہے جو پتھریلی ہو جسے نرم نہ کیا گیا ہو جس پر محنت نہ کی گئی ہو جس میں نمی موجود نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے بہت سے دعوت الی اللہ کرنے والے یہی روتے رہتے ہیں اور ہمیشہ ان کا یہی شکوہ رہتا ہے کہ ہم تو تبلیغ کرتے ہیں کوئی سنتا ہی نہیں۔کوئی سنانے والی بات کرو تو سُنے گا ناں تبلیغ کا مضمون تو تبلیغ کا ذکر کئے بغیر غالب نے بڑے عمدہ رنگ میں بیان کیا ہے۔کہتا ہے میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبہ دل اُس پر بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے (دیوان غالب صفحہ :۲۹۲) میں تو بلاتا ہوں مگر آئیں گے جذبہ دل سے ہی۔پس اے جذ بہ دل ایسا کوئی کرشمہ دکھا کہ اُن پر ایسی بن جائے کہ اُن سے دن آئے بنے ہی نہ۔تیری طرف آنے پر مجبور ہو جائیں۔تو امر واقعہ یہ ہے بڑی گہری بات کر گیا ہے باتوں سے بلایا جاتا ہے مگر کھینچتا جذبہ دل ہی ہے۔اگر جذ بہ دل نہیں ہوگا تو با تیں بالکل بے اثر رہیں گی۔کچے دھاگے کی طرح ہوں گی ان میں کھینچنے کی کوئی طاقت پیدا نہیں ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ کتب جن کا خصوصیت کے ساتھ مشرقی یورپ اور روس کی سوسائٹی پر ایک دم گہرا اثر پڑتا ہے ان کتب میں سب سے نمایاں میں نے مسیح ہندوستان میں پائی ہے۔یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے سابقہ عیسائی دنیا جود ہر یہ ہوگئی اور اشترا کی دنیا کہلاتی ہے اس کے باشندوں پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے۔ایک دم گہری دلچسپی پیدا ہوتی ہے اور وہ خدا کو ابھی نہیں مان