خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 184
خطبات طاہر جلدا 184 خطبه جمعه ۱۳/ مارچ ۱۹۹۲ء نفرتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں اور یہ تجربہ بھی بسا اوقات میرے سامنے احمدیوں نے بیان کیا ہے کہ بعض دوست دیکھنے میں بہت اچھے، بہت شریف النفس بڑا تعلق رکھنے والے تھے لیکن جب ان کو تبلیغ شروع کی گئی تو اندر سے ایسی نفرتوں کے لاوے اُبلے ہیں کہ ہم حیران رہ گئے کہ یہ شخص ان نفرتوں کو اندر پال رہا تھا اور ظاہری طور پر ہم سے اچھے تعلقات رکھتا تھا تو تبلیغ کے نتیجہ میں یہ معلوم ہوگا کہ پتھر کی حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ وہ پتھر ہے جس کا ذکر وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ (البقرہ:۲۵) میں ہے کہ یہ جہنم کے وہ ایندھن ہیں جس میں انسان بھی ہے اور خاص طور پر پتھر دل انسان ہیں۔تو سوال یہ ہے کہ پتھر کی حقیقت معلوم کرنے کے بعد پھر اس پر وقت ضائع کرنا اس منصوبے کی روح کے منافی ہے۔جو پرندہ مانوس نہ ہو اس پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔باز کو آپ مانوس کر لیتے ہیں لیکن ممولے کو آپ مانوس نہیں کر سکتے اور جتنے بھی لوگ پرندے پالتے ہیں ان میں میں نے آج تک مملوے کو پالتے کسی کو نہیں دیکھا لیکن باز پل جاتے ہیں تو مراد یہ ہے کہ ہر طرف کوشش کرو تمہیں علم نہیں کہ کون تم سے مانوس ہو گا۔کہیں پتھر دل بھی موم ہو جائیں گے کہیں موم سخت ہو جائے گی اور پتھر میں تبدیلی ہو جائے گی اس لئے چاروں طرف ہاتھ مارو لیکن جلد جائزہ لو کہ کون اس لائق ہے کہ اس پر تمہارا وقت صرف ہو اور تمہاری توجہ اس پر نتیجہ خیز ثابت ہو۔اس پہلو سے جائزہ لینے کے بعد پھر آپ اپنے ذاتی منصوبے کی طرف لوٹیں اور دیکھیں کہ آپ میں کتنی توفیق ہے اور یہ منصوبہ فورا نہیں بن سکتا اس لئے یہ طریق ہی غلط ہے کہ فارم تقسیم ہو گئے اور ہر ایک نے کہا جی ! میں ایک بناؤں گا ایک کی حد تک تو چلیں کسی حد تک قبول ہو جائے۔ابتدائی تجربے کے لئے کوئی نمبر لکھنا ہے لکھ لیں لیکن اگر یہ ایک ایک سال کے اندر پورا نہ ہو تو پھر لازم ہے کہ سارے منصوبے پر نظر ثانی کی جائے۔اس پہلو سے کام نہیں ہوتا جو چیز میرے دل میں فکر پیدا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ منتظمین جب منصوبوں کو اعداد وشمار میں ڈھالتے ہیں تو اس کے بعد کا غذ سمجھ کر اس سے غافل ہو جاتے ہیں وہ کاغذ کسی نہ کسی تہہ میں چلا جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں جس نے وعدہ کیا تھا اب اس کا کام ہے اور ہمارا یہ کام ہی نہیں کہ ہم جائزہ لیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ کتنی اس نے دلچسپی لی اور اس کی حقیقی صلاحیت کیا تھی لیکن اگر مقامی یا ملکی نظام باشعور ہو اور باہوش ہو تو وہ وقتا فوقتا ان افراد سے رابطہ رکھے گا اور معلوم کرے گا کہ انہوں نے اس ضمن میں کتنے آگے بڑھائے ، کن لوگوں میں کوشش کی اور