خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 185

خطبات طاہر جلد ۱۱ 185 خطبه جمعه ۱۳/ مارچ ۱۹۹۲ء اگر اس کے منصوبے کو پھل لگنے کے کوئی آثار ظاہر نہ ہوں تو پھر بھی ضروری نہیں کہ اس کو رد کیا جائے اگر کوششیں ہو رہی ہیں تو بعض دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک سال کی بجائے جیسا کہ بعض درخت دو تین سال، چار پانچ سال، چھ سال بعد پھل دیتے ہیں ایک انسان کی کوششیں اثر کر رہی ہوتی ہیں اور پھل کچھ دیر کے بعد لگتا ہے لیکن پھل کے آثار ضرور ظاہر ہوتے ہیں۔پس انتظامیہ کا کام ہے کہ آثار کا جائزہ لے اور ہر فرد کا بھی کام ہے جب خدا تعالیٰ سے وعدہ کیا ہے تو اس کے لئے کوشش تو کرے۔جس نے سو کا وعدہ کیا ہے اس کو کم از کم ہزار پر کام کرنا چاہئے اور ہزار پر بیک وقت کام تو کر نہیں سکتا اسے ہر روز تبلیغ کرنی ہوگی اور دن رات کرنی ہوگی۔میں یہ نہیں کہتا کہ سوغیر حقیقی ہے بعض علاقوں میں ہزار بھی حقیقی ہو جاتا ہے جیسا کہ افریقہ کے بعض علاقوں میں ہے ایک شخص نے مجھ سے پانچ سو کا وعدہ کیا تھالیکن خدا کے فضل سے اس سال چالیس ہزار احمدی ہوئے۔تو منصوبوں کا تعلق اپنی ذات سے بھی ہے، اپنے ماحول سے بھی ہے، نیک نیتوں سے بھی ہے، پاک ارادوں سے ہے، نیک اعمال سے ہے ان خدا داد صلاحیتوں سے ہے کہ جن کے نتیجہ میں بعضوں کی باتیں اثر دکھاتی ہیں بعضوں کی باتیں کوئی اثر نہیں دکھاتیں۔پس اس پہلو سے جب آپ ماحول کا جائزہ لیں گے تو ساتھ ساتھ اپنا جائزہ بھی لیتے چلے جائیں گے اور آپ یہ محسوس کریں گے کہ کچھ لوگ آپ کے قریب آرہے ہیں اور ان میں نرمی کے آثار ظاہر ہور ہے ہیں۔یہ نرمی کے آثار یہ فیصلہ کرنے میں مدد کریں گے کہ آپ کا منصوبہ حقیقی تھایا غیر حقیقی تھا ایک سال میں ایک نہیں بنا تین سال میں پانچ بن گئے تو ایک ہی بات ہے بعض دفعہ دودو تین تین سال انتظار کے بعد پھر اچانک پھل لگ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت پھل لگتے ہیں پس میں سو کے خلاف نہیں کہہ رہا کہ منصوبے میں سو کا عدد نہ آئے یا ہزار کا عدد نہ آئے۔میں یہ سمجھا رہا ہوں کہ حقیقی ہو اور جب آپ فیصلہ کریں تو آپ کی تمام قو تیں اس فیصلے کی تائید میں اٹھ کھڑی ہوں اور آپ کا خلوص بتائے کہ آپ نے سچائی سے اور دیانتداری سے منصوبہ بنایا تھا منشی عبداللہ صاحب آف سیالکوٹ یا مولوی عبد اللہ صاحب سیالکوٹی کا پہلے بھی کئی دفعہ میں آپ کے سامنے بیان کر چکا ہوں حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دفعہ تحریک فرمائی کہ ہر شخص سال میں کم از کم ایک احمدی ضرور بنائے اور منشی عبداللہ صاحب یا غالباً مولوی عبد اللہ صاحب جو بڑے مخلص صحابی تھے بزرگ تھے انہوں