خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 183 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 183

خطبات طاہر جلد ۱۱ 183 خطبه جمعه ۱۳/ مارچ ۱۹۹۲ء ان کا اپنے ساتھ تعلق قائم کرنا پڑتا ہے اس کے بغیر کوئی بات نہیں سنے گا۔پس وہ تو میں جو متکبر قو میں ہیں ان میں بھی جب آپ منصو بہ بنا ئیں تو منصوبہ بناتے وقت پہلے اپنی صلاحیت کا بھی جائزہ لیں کہ آپ میں کسی کو اپنے ساتھ لگانے کی کتنی توفیق ہے۔اس کے مختلف طریق ہیں جن کے متعلق میں ذکر کرتا ہوں لیکن پہلے میں اس مضمون کو ختم کرلوں۔فرمایا: چار سمتوں میں ان کو پھیلا دے اس میں ایک بہت بڑا انکشاف یہ فرمایا گیا کہ کسی ایک سمت میں تبلیغ نہیں کرنی خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے۔ہر طرف سے زندگیوں کو کھینچتا ہے اور مردوں کو زندہ کرتا ہے انسان نہ عالم الغیب ہے نہ قادر مطلق ہے اسے اپنی کوششوں کو ہر سمت پھیلانا چاہئے اگر انگلستان میں بھی بیٹھا ہوا ہے تو صرف انگریزوں کو تبلیغ نہ کرے، یہاں دوسری قومیں بھی آباد ہیں مشرق کی بھی مغرب کی بھی ، شمال کی بھی اور جنوب کی بھی چنانچہ چاروں سمت کے پرندوں کو پکڑنے کی کوشش کریں اور جہاں جہاں بھی وہ تبلیغ کے لئے جاتا ہے وہاں ضروری نہیں کہ ہر رنگ اور نسل کے آدمی اس کو میسر ہوں لیکن ہر مزاج کے آدمی میسر ہوتے ہیں اور مزاج کے اعتبار سے بھی کوئی شمال سے تعلق رکھتا ہے، کوئی جنوب سے کوئی مشرق سے کوئی مغرب سے ہر مزاج کے انسان ہر قوم میں میسر آتے ہیں تو دوسری نصیحت گویا یہ ہوئی کہ ہر مزاج کے آدمی کو ڈھونڈو اور تم نہیں جانتے کہ کس مزاج سے کیا نتیجہ ظاہر ہوگا۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایسے پتھر بھی تو ہیں جن سے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں پس پتھر کو بھی ابتدا ءرڈ نہ کرو اس پر زور لگاؤ کوشش کرو اور جب تم دعا کر کے ساتھ مناسب کوشش کرو گے تو بعید نہیں کہ پتھر سے بھی رحمت کے چشمے پھوٹ پڑیں۔تو چاروں طرف تبلیغ کرنا ، ہر قسم کے مزاج کے آدمی کی تلاش رکھنا ان پر کوشش کرنا اور پھر ان کو اپنے ساتھ مانوس کر لینا یہ تبلیغ میں کامیابی کے لئے ضروری ہے۔یہاں ایک اور امر بھی قابل توجہ ہے کہ وہ لوگ جو مانوس نہیں ہوتے ان سے مسلسل سر ٹکرانا اس منصوبے کے خلاف ہے جو خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو سکھایا۔بعض لوگ اس خیال سے کہ پتھر سے بھی تو چشمے پھوٹتے ہیں بعض ایسے آدمیوں پر اپنا وقت ضائع کرتے چلے جاتے ہیں جن کے دل کی سختی ان کے پیار اور محبت سے نرم نہیں پڑتی، ان کو ان سے کوئی لگاؤ پیدا نہیں ہوتا اور تبلیغ کے نتیجہ میں قریب آنے کی بجائے بسا اوقات ان کے دل میں نفرتیں پیدا ہوتی ہیں یا