خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 172
خطبات طاہر جلد ۱۱ 172 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء گزرو تو مجھے اپنے قریب پاؤ گے۔مقصد یہ بیان فرمایا کہ میں روزے دار کی خود جزا بن جاتا ہوں۔پس وہ کیسا رمضان ہے جس میں بھوکے رہنے کی جزا تو ملتی ہو لیکن روح کی تشنگی کی کوئی جزا نصیب نہ ہو اور اس کا تعلق تشنگی سے بھی ہے کہ تشنگی ہی محسوس نہ ہو یعنی خدا کی طلب پیدا نہ ہو اور اس کے لئے دن بدن خواہش زیادہ بڑھتی چلی نہ جائے تو یہ مرض ہے۔وہ مریض جو لمبا عرصہ بھوکا رہتے ہیں اور اس کے باوجود کھانے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی ان کی کھانے کی خواہش پیدا نہ ہونا ان کے لئے نعمت تو نہیں ہے کہ تکلیف نہیں ہورہی ، کھانا نہیں کھاتے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ علامتیں گہرے مرض میں ظاہر ہوتی ہیں اور کھانے کی طلب نہ ہونا یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ مریض دن بدن موت کی طرف حرکت کر رہا ہے اور اس کی زندگی کے گہرے سرچشمے ہیں وہ سو کھنے لگ گئے ہیں۔طلب کا زندگی کے گہرے سرچشموں سے بہت گہرا تعلق ہے اسی لئے میں نے اپنے ہومیو پیتھک کے ہمیشہ کے تجربہ میں یہ بات محسوس کی ہے کہ جب کسی دوا سے فائدہ ہو تو کھوئی ہوئی طلب زندہ ہونا شروع ہو جاتی ہے اور مریض جب یہ علامتیں ظاہر کرتا ہے کہ مجھے فلاں چیز دو جس سے پہلے نفرت ہو چکی تھی تو میں سمجھتا ہوں کہ اب خدا کے فضل سے مرض سے افاقہ ہو رہا ہے اور زندگی لوٹ کے آرہی ہے تو اس رمضان میں ہر احمدی کو اس پہلو سے اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ وہ کہیں بیمار تو نہیں رمضان سے گزرا ہے بھوک کے بعد کھانے کی لذت سے آشنا ہو گیا ہے۔پیاسے رہتے ہوئے جب پانی ملایا کوئی اور نعمت ملی۔مثلاً بعضوں کو کوکا کولا کا شوق ہے، کسی کو شربت والے دودھ کا مزہ آرہا ہوتا ہے ٹھنڈے مشروب کئی قسم کے ہیں اُن سے اُس نے عام حالات سے بہت بڑھ کر پیاس کی وجہ سے بہت لذت پائی تو یہ وہ تجارب ہیں جو ہر کس و ناکس کو نصیب ہوتے ہیں کیونکہ یہ بدنی تجارب ہیں لیکن رمضان کا مقصد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تکلیف دینا نہیں ہے بلکہ روحانی فوائد حاصل کرنا ہے۔اگر ہمارے تجربے بدنی حدود تک رہیں اور روحانی لذات کی طرف ذہن ہی نہ جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عسر تو ہم نے حاصل کر لیا ئیسر حاصل نہ کی کیونکہ قرآن کریم جب فرماتا ہے کہ اللہ کیسر چاہتا ہے تو یہاں وہ کیسر مراد ہے جو خدا تعالیٰ کی لقاء کا یسر ہے۔جس کا قرآن کریم کی ایک اور سورۃ میں ذکر ہے کہ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرانُ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ ( شرح:-)