خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 171

خطبات طاہر جلد ۱۱ 171 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔اس پر آپ مزید غور کریں تو آپ کو اپنی زندگی کے تجارب میں ایسے واقعات دکھائی دیں گے جس شخص سے پیار ہو اور محبت ہو اس کی بیماری کی حالت کی بد بو اور کئی ایسی چیزیں انسان کو نہ صرف یہ کہ برداشت ہوتی ہیں بلکہ اس کی خاطر اس کے قریب رہتے ہوئے ان چیزوں سے ایک لگاؤ بھی پیدا ہو جاتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ بری لگنی بند ہو جاتی ہیں۔اپنی ذات سے انسان محبت کرتا ہے اور روزانہ غسل خانہ وغیرہ میں حاجات کے لئے جاتا ہے تو اپنی بو بری نہیں لگتی۔بعض لوگوں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ ہم بو والے حصہ سے آئے ہیں لیکن کوئی شخص وہاں چلا گیا ہو تو اس کی بو سے شدید نفرت پیدا ہوتی ہے تو یہ قرب کی علامتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے محبت کا پیغام دیا ہے۔فرمایا اے روزے دارو! تم میرے محبوب بن گئے ہو تمہاری بظاہر بری باتیں بھی مجھے پیاری لگنے لگ گئی ہیں اور یہ عشق کا مضمون ہے پس روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا عشق سے گہرا تعلق ہے اور محبوب کی خاطر اللہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے پیار کے لئے جن چیزوں سے پر ہیز کرتے ہیں جن کی عام حالات میں اجازت ہے اس کی جزاء بھی پھر اللہ تعالیٰ خود بن جاتا ہے کیونکہ عاشق کی جزاء تو محبوب ہی ہے پس یہ روزہ زکوۃ کا معراج ہے اور روزے کا معراج رمضان ہے۔جس میں قرآن کریم نازل ہوا وہ تمام برکتیں جو امت محمدیہ کو عطا ہوئیں ان کا رمضان شریف سے گہرا تعلق ہے۔الله آنحضرت مزید فرماتے ہیں کہ روزے کے تو دو مزے ہیں اور ہر روزے دار کی دوموجیں ہیں۔ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے اور ایک جب خدا اس کو ملتا ہے۔اب یہ اصل توجہ والی بات ہے جس کی طرف میں ساری جماعت کو خاص طور پر متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔جب انسان روزہ کھولتا ہے تو اس کو اس لئے مزہ آتا ہے کہ ایک چیز کی بہت طلب پیدا ہو چکی ہوتی ہے اور جب اس طلب کی سیرابی ہو، جب بھوک کے وقت روٹی ملے، پیاس کے وقت پانی یا اور نعمتیں نصیب ہوں تو انسان کو عام حالتوں سے بہت زیادہ مزہ آتا ہے۔اگر رمضان میں سے ہم گزرجائیں اور بھوک کی طلب اور اس کے بعد اس طلب کی سیرابی سے تو واقف ہوں لیکن خدا کی طلب اور خدا کے دیدار کی لذت سے نا آشنار ہیں تو یہ رمضان ایک بے معنی اور بے حقیقت سارمضان ہو جائے گا اور اپنے مقصد کو کھودے گا کیونکہ مقصد یہ بیان فرمایا کہ رانِّي قَرِيب تم رمضان میں