خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 173 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 173

خطبات طاہر جلد ۱۱ 173 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء وہاں یسر کی اعلیٰ درجے کی تعریف قرآن کریم نے خود بیان فرما دی۔فرمایا: اے محمد ﷺ ہر تنگی کے بعد ہم نے آسانی رکھ دی ( عسر کا معنی ہے تنگی میسر کا معنی ہے۔آسانی ) ہر تنگی کے بعد ہم نے آسانی رکھ دی اور تیری آسائش کا منتہیٰ یہ ہے کہ تو خدا کی عبادت کر۔فَإِذَا فَرَغْتَ۔پس جب دنیا کے دھندوں سے ، دنیا کی مصیبتوں اور مشکلات سے تو فارغ ہو جایا کرے، فانصب تو خدا کے حضور کھڑا ہو جایا کر وَ إلَى رَبِّكَ فَارُ غَبْ اور اپنے رب سے اپنا لیسر چاہ۔تو وہ یسر جو اس صورت میں بیان ہوا ہے وہی یسر یہاں مراد ہے کیونکہ یہاں بھی لقائے باری تعالیٰ کے مضمون پر یہ آیات منتج ہوتی ہیں اور وہاں جا کر انتہا پکڑتی ہیں۔روزے کی تنگی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقصود بالذات نہیں ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں ایک آسائش پیدا کرنا مقصود ہے۔یادرکھو اگر تم نے اس آسائش کو نہ پایا تو روزے کی تنگی محض بریکار جائے گی اور تمہارے اوپر یہ بات صادق آئے گی کہ ہر عسر کے ساتھ عسر ہی ہے اور اس کے بعد کوئی کسر نہیں ہے۔پس دنیاوی آسائش کو جو ہر بدن کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے جو نگی کے بعد تنگی دور ہونے پر انسان محسوس کرتا ہے اس کو مقصود نہ سمجھیں۔یہاں یسر سے مراد وہ اصطلاحی میسر ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی لقاء مراد ہے۔اور قرآن کریم نے خوب کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ اِنِّي قَرِيبٌ۔میں قریب ہوں۔بطور جزا کے تمہارے قریب ہوں۔آنحضور ﷺ نے اس مضمون کو خوب روشن فرما دیا تو یہ رمضان اس بات کی نگرانی کا رمضان بنادیں کہ آپ اور آپ کے اہل وعیال لقائے باری تعالیٰ کی تلاش کریں۔اس کے لئے دل میں طلب پیدا کریں اور پیاس پیدا کریں اور اگر یہ نہیں ہوتا تو پھر بیمار ہیں۔پھر اس بیماری کا علاج ضروری ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلقہ ملفوظات میں بہت سے مضامین پھیلے پڑے ہیں جن کا رمضان سے تعلق ہے۔اگر چہ تحریروں میں بھی ہے لیکن ملفوظات میں جو بے ساختگی پائی جاتی ہے اور جو گہرا اثر پایا جاتا ہے وہ اپنا ایک الگ مزاج رکھتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ عام تربیت کیلئے ملفوظات کا استعمال بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔پس جماعتوں کو بھی متعلقہ ملفوظات کو تلاش کر کے عام کرنا چاہئے اور اس رمضان میں انتظامیہ کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ روحانی تربیت کی طرف توجہ ہو اور مقصود بالذات خدا تعالیٰ ہو۔یعنی اس رمضان سے گزر کر اولیاء اللہ پیدا ہوں اس رمضان سے گزر کر اعلیٰ درجے کے