خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 932 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 932

خطبات طاہر جلد ۱۰ 932 خطبہ جمعہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء اور پھر اس کے مضمون کی کچھ باتیں آپ شروع کر دیں تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ آپ کے ہاتھ جھٹک دے۔ہر شخص میں بعض خوبیاں ہیں۔جھوٹی تعریف نہیں کرنی چاہئے۔اس کا تو کسی مؤمن کے لئے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر ہر شخص کی سچی تعریف کرنے کے امکانات ہیں اور یہی امید کا وہ روشن چراغ ہے جسے ہمیں لے کر تبلیغ کے معاملہ میں آگے بڑھنا ہے۔امید کا روشن چراغ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے کوئی ایک بھی اس میں سے ایسی نہیں جو خو بیوں سے عاری ہو اور ہر جنس کے ہر فرد میں خواہ وہ اپنے کردار کی گراوٹ میں کہیں تک پہنچ چکا ہو پھر بھی کچھ خو بیاں رہتی ہیں۔بعض چوروں اور بدکاروں میں بھی بعض ایسی بنیادی خوبیاں قائم رہتی ہیں کہ جن کے نتیجہ میں ان کے لئے ہر وقت واپسی اور تو بہ کا امکان روشن رہتا ہے۔تو ہر شخص کی خوبیوں کے ذریعہ آپ کا اس سے رابطہ ہونا چاہئے۔ہر قوم کی بعض خوبیاں ہوتی ہیں ان خوبیوں کو بھی آپ کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔پس آغاز میں اگر آپ کسی شخص کو نہیں جانتے تو اس کی بعض قومی خوبیوں کا ذکر کر سکتے ہیں۔اگر اس کو جانے لگے ہیں تو رفتہ رفتہ اس کی بعض اچھی باتیں تلاش کریں اور ان باتوں کا ذکر اس سے چھیڑیں اس کا تعلق آپ سے بڑھنا شروع ہو جائے گا۔تو بہر حال یہ سمجھانا پڑے گا کہ رابطے کیسے کئے جاتے ہیں۔ان رابطوں کے سلسلہ میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کچھ نہ کچھ خاطر مدارات بھی ساتھ کرنی پڑے گی اور اس کے بغیر گزارا نہیں ہے۔پس داعی الی اللہ کو اس بات کے لئے تیار رہنا چاہئے اور اس ضمن میں مستورات کے لئے بھی بہت سے خدمت کے مواقع ہیں۔بہت سی رپورٹیں جو مجھے مختلف جگہوں سے ملتی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ جن احمدی داعین الی اللہ کی بیویاں حوصلے والی اور خدمت کرنے والی اور مہمان نواز ہیں ان کا دعوت الی اللہ کا کاروبار خوب چمکتا ہے اور بڑی جلدی ان کے تعلقات کے دائرے بڑھتے ہیں۔کوئی شخص جو آپ کے گھر آکر آپ کی بیوی کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا سوائے اس کے کہ بدقسمتی سے وہ کھانا بہت ہی خطرناک پکاتی ہو ایک دفعہ کھالے تو کچھ کمی بھی رہ گئی ہوگی تو وہ بہت ہی ممنون ہوگا اور شکر یہ ادا کرے گا اور اس کا ایک گہرا تعلق قائم ہو جائے گا۔اس طرح آپ کی بیویاں بھی اس میں حصہ لے سکتی ہیں، آپ کے بچے بھی اگر آپ ان کی اخلاقی لحاظ سے تربیت کریں ، وہ ان سے پیار کا اظہار کریں، ان سے دل لبھانے والی اچھی باتیں کریں تو وہ جو دور کا تعلق تھا اچانک قریب آتے آتے