خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 931 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 931

خطبات طاہر جلد ۱۰ 931 خطبہ جمعہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء طرف بلاؤ اور حکمت کا مضمون اتنا وسیع ہے کہ یہ جو باتیں بیان کر رہا ہوں یہ بھی اسی مضمون کی بعض شاخیں ہیں۔اب دیکھیں سیکرٹری تبلیغ کے لئے کتنی محنت درکار ہے اور کتنا وقت اس کو صرف کرنا ہوگا۔پھر وہ جس کو تبلیغ کے لئے تیار کر رہا ہے اس کو یہ بتا سکتا ہے کہ آپ کے لئے ہمارے پاس یہ یہ مواد موجود ہے اگر پاس بلغاریہ کے لوگ رہتے ہیں تو ان کے لئے ہمارے پاس خدا کے فضل سے یہ لٹریچر تیار ہو چکا ہے اگر رومانیہ کے لوگ ہیں تو ان کیلئے ہمارے پاس یہ لٹریچر ہے اگر ترک باشندے ہیں تو ان کے لئے ہمارے پاس یہ کچھ ہے۔اگر عرب ہیں تو ان کے لئے ہمارے پاس یہ کچھ ہے غرضیکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت دنیا کی اکثر قوموں سے متعلق پوری جدوجہد کے ساتھ ایسا لٹریچر تیار کر رہی ہے۔جن کی ہمارے نزدیک ان کو ضرورت ہے اور سیکرٹری تبلیغ اکثر ایسے ہیں جن کو پتہ ہی نہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ان کو نہ لٹریچر کی تفصیل کا علم ہے کہ کون سا شائع ہو چکا ، نہ آڈیو ویڈیو کی شکل میں جو تبلیغی مواد ہے اس کے متعلق پورا علم ہے۔وہی کیفیت ہے کہ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے پرانی جن کا کام ہے تبلیغ کرنا ان کو ان باتوں کا علم نہیں ہے اگر ان کو علم ہو تو پھر آگے اس علم کو دعوت الی اللہ کے لئے اپنا نام پیش کرنے والے ہر شخص تک پہنچانا ہوگا اور تفصیل سے سمجھانا ہوگا پھر یہ بنایا جاسکتا ہے کہ رابطہ کرنے کا طریق کیا ہے۔اگر ایک بالکل اجنبی ہو اس سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے اور رابطے کے لئے تقریبات پیدا کی جاسکتی ہیں اس میں کوئی مشکل نہیں ہے۔جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا تھا تو ہماری احمد یہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشنز کے بعض طلباء کے ساتھ اسی مضمون پر گفتگو ہوئی اور میں نے ان کو بتایا کہ میرے لئے تو رابطہ قائم کرنا کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ رابطہ پیدا کرنے کا گر آنا چاہئے کہ وہ ہے کیا؟ اور وہ گر یہی ہے کہ اگر آپ کو کسی شخص میں دلچسپی ہے تو اسے آپ میں دلچپسی ہوگی۔میں نے مثال دی کہ ایک کھلاڑی ہے ہاکی کا کھلاڑی ہے،اچھا کھیلتا ہے کہیں بیٹھا ہو آپ اس کے پاس جا کر کہہ سکتے ہیں کہ میں نے تمہارا کھیل دیکھا تھا، میرے دل پر اس کا بہت گہرا اثر پڑا تو اچانک اس کے دل میں آپ کے لئے محبت اور نرمی کا گوشہ پیدا ہو جائے گا۔پھر آپ اس کو کہہ سکتے ہیں کہ میں اپنے لئے اعزاز سمجھوں گا اگر آپ میرے ساتھ چائے کی ایک پیالی پئیں