خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 933
خطبات طاہر جلد ۱۰ 933 خطبہ جمعہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء ایک خاندانی تعلق میں تبدیل ہو جائے گا۔تو دور کے تعلقات کو قریب کرنا ایک با قاعدہ منصوبے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کوچے کی آشنائی ہوئی ضروری ہے اور یہ باتیں محض عمومی نصیحتوں کے ذریعہ نہیں سمجھائی جایا کرتیں۔انفرادی طور پر کام کر کے دکھانا پڑتا ہے تو اس طرح آپ دیکھیں کہ ایک سیکرٹری تبلیغ چند آدمیوں کو لے کر جاتا ہے اس کے پاس اپنا کتنا وقت ہوگا۔وہ کہاں تک ان سب کاموں سے نپٹ سکتا ہے کس کس تک پہنچ سکتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اصل طریق وہی ہے کہ جن دو تین ساتھیوں کو لے کر وہ جاتا ہے ان سے پھر وہ بار بار کام لینا شروع کرے۔ساتھ ان کی تربیت کرے اور پھر مقامی دوستوں کو وہ ساتھ لینا شروع کریں۔پھر حلقے تقسیم کریں تو ایک کام جو معمولی آغاز سے شروع ہواوہ ایک وسیع کاروبار تک پہنچ سکتا ہے اور ساتھ اور لوگ شامل ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اس موضوع پر بھی وہی آیت کریمہ ہمارے کام آئے گی جو ہمیں دعا کا ایک طریق سکھاتی ہے کہ ربِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطنًا نَّصِيرًا ( بنی اسرائیل: ۸۱) کہ اے خدا! ہم ترقی کے جس مرحلے میں بھی قدم رکھتے ہیں اس مرحلے کو ہمارا آخری مقام نہ بنانا بلکہ اگلے مقامات کے لئے دروازہ کھولنے والا مقام بنا دینا اور اس ضمن میں ہر اگلا مرحلہ ہمارے لئے مقام محمود ثابت ہو۔ایسا مرحلہ جس کی اللہ کی طرف سے تعریف کی جاتی ہے کیونکہ اس سے پہلے جو آیت کریمہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ خدا تعالیٰ تجھے مقام محمود تک پہنچا دے با مقام محمود پر نافذ فرمادے۔اس کے بعد پھر ساتھ یہ دعا ہے کہ رَبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ مقام محمود کے تقاضوں کو سمجھنے کے بعد طبعا دل سے یہ دعا اٹھنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ نے یہی دعا سکھاتی ہے۔پس مقام محمود چونکہ خدا کی طرف سے عطا ہوتا ہے اس لئے کسی انسانی تعریف کا محتاج نہیں ہے اور انسانی تعریف سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔مقام محمود وہ ہے جس کو خدا نے تعریف کے ذریعہ ایک مقام کے لائق سمجھا ہوا ور وہ مقام اس کو عطا کیا ہو۔یہ وہ مقام ہے جو مقام محمود کہلاتا ہے۔اس کے بعد دنیا کی تعریف خود بخود شروع ہو جاتی ہے۔اس لئے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مقام محمود میں صرف خدا تعریف کرتا ہے اور بندے تعریف نہیں کرتے مگریہ تعریف وہ ہے جو خدا کی تعریف کے تابع ہوتی ہے۔یہ وہ راگ ہے جسے جب آسمان گاتا ہے تو فرشتے بھی ساتھ گاتے ہیں اور پھر ملائکہ کے