خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 915 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 915

خطبات طاہر جلد ۱۰ 915 خطبه جمعه ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ء اور پھر وہ دوسری طرف توجہ کرسکیں گے۔معلومات کے سلسلہ میں معلومات پہنچانے کی طرح معلومات حاصل کرنا بھی بہت ضروری ہے۔اس سے پہلے میں نے معلومات حاصل کرنے کے متعلق بعض باتیں سامنے رکھی تھیں۔اب ایک عملی مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جب ہم کہتے ہیں کہ آپ جائزہ لیں کہ کتنے احمدی نوجوان ، بوڑھے ، مرد، عورتیں تبلیغ میں دلچسپی لیتی ہیں تو ہمیں لٹیں آجاتی ہیں اور بڑی بڑی لمبی لسٹیں ہوتی ہیں۔بعض ملکوں سے ہزاروں کی لسٹیں آتی ہیں۔پاکستان سے ۷۰ ہزار کے قریب ایک لسٹ آئی تھی یا ایک لسٹ کی کئی قسطیں آئی تھیں جس سے پتہ چلا کہ گویا پاکستان میں اتنے احمدی دعوت الی اللہ کے کام میں دلچسپی رکھ رہے ہیں اور انہوں نے اپنے نام بھی لکھوائے ہیں۔افریقہ کے ممالک سے ، یورپ کے ممالک سے بھی نسبتاً چھوٹی چھوٹی فہرستیں مگر آتی ضرور ہیں۔اگر یہ فہرستیں واقعہ درست ہیں تو اس کے نتیجہ میں جو نتیجہ خیز کام ہونا چاہئے وہ تو موجودہ نتائج کے مقابل پر سینکڑوں گنا زیادہ ہونا چاہئے لیکن ایسی بات نہیں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ معلومات حاصل کرنے کا انداز بھی سطحی ہے جس طرح معلومات پہنچانے کے انداز میں بھی گہرائی چاہئے معلومات حاصل کرنے کے انداز میں بھی گہرائی چاہئے اور با مقصد کام ہونا چاہئے۔اب فہرستیں آپ اکٹھی کرلیں اور ان کو کسی جگہ کاغذوں کے نیچے غرق کر دیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔رسمی طور پر آپ کے سر سے بوجھ اتر گیا۔آپ نے مرکز کی ہدایت کو پورا کر دیا مگر وہ ہدایت کس کام آئی ہمیشہ اپنے ذہن کو اس بات پر مستعد رکھا کریں کہ وہ نتیجے کی تلاش کیا کرے۔صرف نتیجہ پیدا کرنے کے ذرائع کی تلاش نہ کرے بلکہ نتیجے پر دھیان رکھے۔اگر نتیجہ نہیں نکلتا تو پھر قابل فکر بات ہے کوئی نہ کوئی مرض لاحق ہے یا کوشش کرنے والے میں نقص ہے یا اس شخص میں نقص ہے ان لوگوں میں نقص ہے جن کے لئے کوشش کی جاتی ہے مگر نتیجہ اگر نہیں نکلتا تو تسکین سے بیٹھنے کا کوئی حق نہیں رہتا۔دعاؤں میں کمی ہے تو اس طرف توجہ دی جائے۔اپنے کام میں طریق کار میں کچھ نقائص موجود ہیں تو ان کو ڈھونڈا جائے۔یہ معلومات کا جو سلسلہ ہے اس میں معلومات حاصل کرنے کا بھی ایک جز ہے اور اس میں بھی گہرائی یا سطحی انداز پائے جاتے ہیں۔گہرائی سے میری مراد یہ ہے کہ جب آپ معلوم کرتے ہیں کہ کتنے آدمی تبلیغ میں دلچسپی لے رہے ہیں یا دلچسپی لینے کا وعدہ کرتے ہیں تو پھر فوری طور پر ان کی اگر