خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 916 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 916

خطبات طاہر جلد ۱۰ 916 خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ء روزانہ نہیں تو ہفتہ وار یا پندرہ روزہ نگرانی کا کام ساتھ ہی شروع کر دیا جائے ، ان سے رابطے ہوں، ان کے پاس مرکزی عہدیداران پہنچیں یا ان کے نمائندے پہنچیں، ان سے ملاقاتیں کریں۔ان سے معلوم کریں کہ آپ نے جو یہ وعدہ کیا تھا اسے پورا کرنے کے کیا انداز ہیں، کیا طریق اختیار کئے گئے ہیں، اب تک کے تجارب کیا کہتے ہیں آپ نے کس طرح کام کو آگے بڑھایا ہے اگر اس طرز پر وہ چھان بین شروع کریں گے تو معلوم ہوگا کہ فہرست میں جو اکثر نام درج ہیں وہ فرضی سے ہیں یعنی نام حقیقی تو ہیں لیکن اس حقیقت میں کوئی گہرائی نہیں۔ایک سطحی پن ہے کاغذ کی سطح پر نام درج ہوئے اور وہیں ٹھہر گئے۔عمل کی دنیا میں ان ناموں نے کوئی روپ نہیں دھارا ، کوئی شکل اختیار نہیں کی ، اس لئے وہ نام سطحی رہ جاتے ہیں۔اس ضمن میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس شعبے کو دوحصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا۔اس جائزے کے دوران یہ معلوم کر لیا جائے کہ عملاً وہ کتنے احمدی ہیں جن کو تبلیغ کی دھن سوار رہتی ہے اور وہ بعض جگہ گنتی کے چند ملیں گے۔بعض جگہ بیسیوں بھی مل سکتے ہیں بعض جگہ سینکڑوں بھی لیکن اکثر صورتوں میں ایسے فعال احمدی جو دن رات تبلیغ کا فریضہ ادا کرتے ہیں وہ تعداد میں بہت کم ہیں۔ان کی الگ فہرست بنائی جائے اور کسی کے سپرد کیا جائے کہ ان کے ساتھ رابطہ رکھو، ان کے حوصلے بڑھاؤ ، ان کو کام کے نئے نئے طریق بتاؤ ان کی ساری ضرورتیں پوری کرو، ان کے ساتھ ان کے اردگرد رہنے والے احمدیوں میں سے بعض نوجوان مددگار کے طور پر دو۔اگر با قاعدہ عہدہ نہیں تو اپنی ٹیم کے سرداران کو بناؤ اور ان کے سپرد یہ کام کرو کہ بعض دوسروں کو بھی یہ تربیت دیں۔یہ کام اگر شروع کیا جائے تو دراصل ہمہ وقتی کام ہے لیکن چونکہ ہم سب جز و وقتی کام کرنے والے ہیں یعنی اپنے دوسروں کاموں کے علاوہ دین کا جزو وقتی کام کرتے ہیں اس لئے بہت ہی مصروف آدمی کی ضرورت ہے۔یعنی ایسے آدمی کی ضرورت ہے جو مصروف رہنا جانتا ہو۔جب میں نے مصروف لفظ کہا تو مراد یہ ہے کہ ایسا شخص جو مصروفیت کے بغیر رہ نہ سکے۔میرا جائزہ اور تجربہ یہ ہے کہ جب مصروف آدمی کے سپر د کام کئے جائیں تو وہ ہو جاتے ہیں۔فارغ وقت والے آدمی کے سپرد کام کئے جائیں تو نہیں ہوتے کیونکہ فارغ وقت والا ہوتا ہی وہی ہے جس کو اپنے وقت کی قیمت معلوم نہیں ہوتی اور وقت ضائع کرنا اس کی عادت بن چکا ہوتا ہے۔اس لئے اگر فارغ وقت آدمی کو پکڑنا ہے تو رفتہ رفتہ اسے مصروف رہنا سکھانا ہوگا اور اس کے لئے بعض دفعہ اس کے مطلب کی چیز اگر اس کے سپرد کی جائے تو