خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 914 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 914

خطبات طاہر جلد ۱۰ 914 خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ء ނ مضمون بیان کیا ہے اس پر غور کرو۔چھ دنوں میں ساری کائنات کو پیدا کر کے اس کو درجہ کمال تک پہنچادیا اور جب سب نظام خود کار آلوں کی طرح چل پڑا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (الاعراف :۵۵) پھر خدا تعالیٰ عرش پر مستوی ہو گیا یعنی جس طرح جائزہ لینے کے لئے ، آفاقی نظر۔دیکھنے کے لئے کوئی بلند مقام پر فائز ہو اور صرف یہ دیکھ رہا ہو کہ کیسے چل رہا ہے یا اگر کہیں کوئی رخنہ پیدا ہو تو اس کے لئے سزا دینے والا یا روکنے والا یا کمی پوری کرنے والا جو نظام مقرر ہے وہ مستعد ہے کہ نہیں۔وہ کر کے پھر اور آسمانوں کی تخلیق کے لئے (خدا تعالیٰ کے متعلق یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وقت مل گیالیکن ) تو جہات فارغ ہو گئیں اور تو جہات کے فارغ ہونے کا محاورہ قرآن کریم نے خود بیان فرمایا ہے۔سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلُنِ (الرحمان:۳۲) اے دو بڑی بڑی وسیع طاقتو اور بھاری لوگو! ہم تمہارے لئے فارغ ہوں گے۔خدا کے لئے فراغت کے معنی ویسے تو نہیں ہوتے جیسے ہمارے لئے ہوتے ہیں لیکن بہر حال لفظ فراغت قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے لئے بھی استعمال فرمایا ثُمَّ اسْتَوى عَلَى الْعَرْشِ سے مراد میں یہی سمجھتا ہوں کہ ایک اچھا منتظم جب ایک کام کو چلا کر اور جاری کر کے روز روز کے کاموں کے دھندوں سے نجات حاصل کرلے اور انسانی سطح پر فارغ کے جو معنی ہیں ان معنوں میں نسبتی طور پر فارغ ہو جائے تو اس کو پھر اور کاموں کی طرف متوجہ ہونے کا وقت مل جاتا ہے اور اس طرح نظام ہمیشہ ارتقاء پذیر رہتا ہے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔امراء کو بھی اس مضمون کو سمجھنا چاہئے سب عہدیداران کو سمجھنا چاہئے۔بات سن کر اتنی سی بات پر عمل کر کے رسمی طور پر اس بات کا حق ادا کیا، گہرائی میں جا کر اس بات کا حق ادا نہ کیا ان دو باتوں میں فرق ہے۔مومن وہ ہے جو رسمی طور پر حق ادا نہیں کرتا بلکہ اوامر اور نوا ہی میں گہرائی میں جا کر حق ادا کرتا ہے اور جو لوگ علم میں ڈوب کر اس کو سمجھتے ہیں، اس کے تقاضوں کو سمجھتے ہیں ان کا علم ترقی کرتا ہے اس علم کے ذریعہ ان کو نئے نئے فوائد حاصل ہوتے رہتے ہیں۔بہر حال یہ مضمون بعض باتوں کے کچھ تھوڑا سا زیادہ تفصیل میں چلا گیا ہے۔اصل مضمون کی طرف واپس آتے ہوئے میں عرض کرتا ہوں کہ عہدیداران کو ، خصوصاً امراء کو معلومات مہیا کرنے کے نظام کو بہتر بنانا پڑے گا اور خود دلچسپی لینی ہوگی اور گہری ذاتی دلچسپی لیں گے تو ان کو نئے نئے خیالات آئیں گے، نئی نئی تجویزیں سوجھیں گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالآخر ایک نہایت عمدہ خود کار نظام کی طرح تبلیغ کا یہ شعبہ چل پڑے گا