خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 913 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 913

خطبات طاہر جلد ۱۰ 913 خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ء لگ جاتا ہے۔اپنے سے کام لینے والوں کو دعائیں دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ دین کی مدد کر رہے ہوتے ہیں اور دین ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے اندر بھی وہ روحانی ترقی کا سفر شروع ہو جاتا ہے جس کا اس دعا میں ذکر موجود ہے۔تو تبلیغ کرنے کے لئے جب آپ کام شروع کریں گے۔لٹریچر کے ساتھ جماعت کو متعارف کرائیں گے۔آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ جماعت کو متعارف کرائیں گے تو لازماً اس کے نتیجہ میں یہ کام بڑھے گا اور کام بڑھے گا تو اس کام کو سمیٹنے کے لئے مددگار بھی چاہئیں اور کچھ خرچ بھی چاہئے اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت پیش آئے گی۔مثلاً میں نے دیکھا ہے جب ہم کہتے ہیں کہ آڈیو ویڈیو سے جماعت کو متعارف کرایا جائے۔ان کو بار بار بتایا جائے کہ ہمارے پاس کیا نئی چیز آئی ہے اور کیا پہلی ایسی چیزیں ہیں جن سے آپ فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو طلب شروع ہو جاتی ہے اور اس طلب کو پورا کرنے کے لئے جو مناسب مشینیں ہیں وہ موجود نہیں ہوتیں۔جب تک آڈیو ویڈیو اچھے طریق پر وسیع پیمانے پر پیدا کرنے اور ان کو بڑھانے کا انتظام نہ ہو اس وقت تک ایک خلا ر ہے گا۔معلومات بھی پہنچیں گی۔طلب بھی پیدا ہو جائے گی لیکن طلب کو پورا کرنے کے لئے اگلا قدم نہیں اٹھا سکتے۔اس کے لئے الگ ٹیمیں بنانے کی ضرورت پڑتی ہے۔چنانچہ یہاں انگلستان کی مثال آپ کے سامنے ہے جب سے میں یہاں آیا ہوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بھی پروفیشنل کو جوفن کا ماہر ہو اس کے وقت کی اجرت دے کر ہمیں اپنے کاموں کو سرانجام دینے کے لئے رکھنا نہیں پڑا۔ایسے نوجوان آگے آئے جن کا اس شعبہ سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔غلطیاں بھی ہوئیں مگر رفتہ رفتہ سیکھا، رفتہ رفتہ نئے نئے آلے بنی نئی ایجادات ان کو مہیا کی گئیں اور اب خدا کے فضل سے یہ شعبہ بہت ترقی کر چکا ہے اور بہت ہی اعلی سطح کی صلاحیتیں حاصل کر چکا ہے۔یہاں تک کہ پھر آڈیو کے بعد ویڈیوکو الگ کیا گیا۔اس کے لئے ایک الگ شعبہ قائم ہوا اور اس نئے شعبہ میں خدا کے فضل سے حیرت انگیز ترقی ہوئی۔نئے نئے رستے انہوں نے تلاش کئے، نئے نئے آئے ان کو مہیا کئے گئے یا انہوں نے طلب کئے تو رفتہ رفتہ یہ سب کام بڑھتا چلا جارہا ہے، پھیلتا چلا جارہا ہے۔سُلْطنًا نَّصِيرًا مہیا ہورہے ہیں۔ان کی ضرورتیں بھی پوری ہورہی ہیں لیکن جماعت کے اوپر کوئی الگ بوجھ نہیں ہے۔شعبہ کو بناتے وقت تھوڑی سی محنت کرنی پڑتی ہے۔اس کے بعد انسان بے فکر ہوکر عمومی نگرانی کرتا ہے۔پہلے بھی میں نے بارہا جماعت کو سمجھایا ہے کہ تخلیق کائنات کے متعلق قرآن کریم نے جو