خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 83

خطبات طاہر جلد ۱۰ 83 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء جاتی ہے یہ تو ہمارا تجربہ ہے۔پس معین طور پر الفاظ تو میں بیان نہیں کر سکتا لیکن جو بات میں بیان کرتا ہوں۔بنیادی طور پر مضمون کے لحاظ سے درست ہے۔چنانچہ اس میں اس نے لکھا ہے جب انگلستان کے پرائم منسٹر، غالبا ڈزرائیلی نام تھا ، ان سے یہ پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک یہ مسودہ جو یہود کی طرف منسوب کیا جاتا ہے واقعہ بڑے یہودی آدمیوں کی تحریر ہے اور ان کا منصوبہ ہے یا ان کے خلاف محض ایک سازش ہے اور ان کو بدنام کرنے کی کوشش ہے تو اس کا جواب ڈزرائیلی نے یہ دیا کہ میرے نزدیک صرف دو صورتیں ممکن ہیں یا تو یہ منصوبہ واقعہ انہی لوگوں کا ہے جن کی طرف منسوب ہو رہا ہے کیونکہ اس کے بعد جتنے واقعات رونما ہوئے ہیں وہ بعینہ اس منصوبے کے مطابق ہوئے ہیں اس لئے از خود کس طرح وہ واقعات رونما ہونے لگے اور اسی ترتیب کے ساتھ ، اسی تفصیل کے ساتھ اور یا پھر یہ کسی نبی کی کتاب ہوگی جس نے خدا سے علم پا کر اتنی زبر دست پیشگوئی کی ہوگی۔تو اس نے کہا میرے نزدیک تو دوہی صورتیں ہیں یا تو پرلے درجے کے جھوٹوں کی ہے جنہوں نے منصوبہ بنایا اور اب انکار کر رہے ہیں اور یا پھر ایک بہت بزرگ اور بچے کی کتاب ہے جس کو خدا نے بتایا تھا کہ آئندہ یہ واقعات ہوں گے۔آج ہم جس دور میں داخل ہوئے ہیں یہ اس کی تکمیل کے آخری مراحل کا دور ہے۔جب روس اور امریکہ کے درمیان مفاہمتیں شروع ہوئیں اور برلن کی دیوار گرنی شروع ہوئی تو مجھے اس وقت یہ منصو بہ یاد آیا۔اگر چہ میرے پاس موجود نہیں تھا کہ میں اپنی Memory ، اپنی یادداشت کو تازہ کر سکتا مگر اتنا مجھے یاد ہے کہ اس کے آخر پر یہی لکھا ہوا تھا کہ بالآخر ہم پھر ساری دنیا کو پہلے تقسیم کریں گے اور پھر اکٹھا کر دیں گے اور اس وقت یہ ہو گا جب ہمارا United Nations پر پوری طرح قبضہ ہو چکا ہوگا۔تو اس وقت سے میرا دل اس بات پر دھڑک رہا تھا کہ اب وہ خطرناک دن آنے کا زمانہ معلوم ہوتا ہے آگیا ہے لیکن اس خوف کے باوجود جو اتنی بڑی بڑی علامتوں کے ظاہر ہونے کے بعد ایک طبعی امر ہے مجھے ایک یہ بھی کامل یقین ہے کہ بالآخر یہ منصوبہ ضرور ناکام ہوگا اور میرا یہ اعلان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک الہام کی بناء پر ہے 1901ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہوا کہ : فری میسن مسلط نہیں کئے جائیں گئے ( تذکرہ صفحہ ۳۳۶)