خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 82
خطبات طاہر جلد ۱۰ 82 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء میں پہلی مرتبہ اس کا انگریزی ترجمہ شائع ہوا۔تو بہر حال یہ وہی دور ہے کہ جب ایک طرف انہوں نے ایک مخفی منصوبہ تیار کیا اور دوسری طرف ایک ظاہری منصوبے کا اعلان کیا اور یہ جو ظاہری منصوبہ ہے اس کے متعلق کوئی Controversy نہیں ہے کوئی اختلاف نہیں ہے۔یہود کہتے ہیں کہ ہاں ہمارا منصوبہ تھا اور ہم نے دنیا میں اس کو ظاہر کیا ہے۔وہ صرف اتنا تھا کہ حکومتوں کے تعلقات کے لحاظ سے ، دوسرے اثرات کو بڑھانے کے لحاظ سے ہم ایک منظم جد و جہد کریں گے جس کا مقصد یہ ہوگا کہ اسرائیل کو اپنا ایک الگ گھر بطور ریاست کے مل جائے۔تو جو دوسرا منصوبہ تھا اس کا مقصد تھا کہ اسرائیل United Nations کے ذریعے اور اس زمانے میں اگر چہ United Nations کا کوئی تصور بھی موجود نہیں تھا لیگز آف نیشنز بھی نہیں تھیں، اس کے باوجود اس منصوبے میں یہ سب کچھ ذکر موجود ہے اور اس سکیم کے ذکر کے بعد وہ منصوبہ آخر یہ ارادہ ظاہر کرتا ہے کہ جب یہ ساری باتیں ہو جائیں گی۔ہم United Nations قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہوں گے تو پھر ہم United Nations پر قبضہ کریں گے اور United Nations پر قبضے کے ذریعے پھر ساری دنیا پر حکومت ہوگی تو یہ United Nations پر قبضہ کرنے کا اور اس کے ذریعے پھر آگے دنیا پر حکومت کرنے کا جو منصوبہ تھا اس میں بہت سالوں کا لگنا ایک طبعی امر تھا لیکن جس مرحلے کا اس میں ذکر ہے کہ ان ان مراحل کو طے کر کے ہم بالآخر اس منصوبے کو پائیہ تکمیل تک پہنچائیں گے وہ تمام مراحل اسی طرح وقتا فوقتا طے ہوتے رہے۔چنانچہ جب یہود نے اس منصوبے سے قطع تعلقی کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ ہماری طرف منسوب کیا گیا ہے ہمارا منصوبہ نہیں ہے تو اس پر دنیا کے علماء اور سیاستدانوں اور دانشوروں نے بڑی بڑی بخشیں اٹھا ئیں۔کئی عدالتوں میں اس پر مقدمہ بازیاں ہوئیں۔انگلستان کے ایک پروٹسٹنٹ نے اس پر بہت تحقیق کی ہے اور اس نے ایک کتاب شائع کی جس کا نام ہے Water Flowing Eastwards اس کتاب میں اس کے سارے پہلوؤں پر بحث ہے۔مجھے آج تقریباً 20 سال پہلے اس کو پڑھنے کا موقعہ ملا تھا۔اس کے بعد کوئی دوست مانگ کر لے گئے اور پھر وہ ہاتھوں ہاتھ بکھر کے پتا نہیں کہاں چلی گئی۔انگلستان سے میں نے کوشش کی ہے لیکن وہ دستیاب نہیں ہوتی کیونکہ اس کتاب میں یہ بھی ذکر ہے کہ اس کتاب کو یہود فورا مارکیٹ سے غائب کر دیتے ہیں۔یہ درست ہے یا غلط کہ یہود کرتے ہیں یا کوئی اور کرتا ہے مگر ہوضرور غائب