خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 84

خطبات طاہر جلد ۱۰ 84 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء اور 1905ء میں انگریزی میں یہ منصوبہ دنیا کے سامنے آیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ فری میسن مسلط کئے جائیں گے۔پس اس زمانے میں جبکہ فری میسنر کا کسی کو تصور بھی نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہونا یعنی ہندوستانی میں تو فری میسنری کا بہت کم لوگوں کو پتا تھا اور پھر قادیان جیسے گاؤں میں اچانک یہ الہام ہو جانا حیرت انگیز بات ہے پس مجھے کامل یقین ہے کہ بالآخر یہ منصوبہ ضرور نا کام ہو گا مگر نا کام ہونے سے پہلے دنیا میں نہایت ہی خطرناک زہر پھیل چکا ہوگا۔بہت سے آتش فشاں پھٹ چکے ہوں گے اس کے نتیجے میں بہت سے زلازل واقعہ ہو چکے ہوں گے۔بہت سی تباہیاں آئیں گی۔بہت سی مصیبتوں میں تو میں مبتلا ہوں گی۔بہت بڑے خطرناک دن ہیں جن سے ہمیں گزرنا ہوگا کیونکہ اتنا بڑا منصوبہ اچانک خود بخو دنا کام نہیں ہوا کرتا۔پوری کوشش کے بعد یہ منصوبہ اپنے سارے پر پرزے نکالے گا اور اس کی ناکامی کے لئے خدا کی تقدیر جو مدافعانہ کوشش کرے گی وہ بہر حال غالب آئے گی لیکن اس دوران ہمیں ذہنی طور پر اس بات کے لئے تیار ہونا چاہئیے کہ بنی نوع انسان بہت بڑے بڑے ابتلاؤں میں سے گزریں گے اور انسان کو بڑی بڑی مشکلات کا سامنا ہو گا اور اس میں سے کچھ حصہ لازماً احمدیوں کو بھی ملے گا کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ قومی عذابوں اور ابتلاؤں کے وقت بچوں کی جماعت کلیہ بچ جائے۔تکلیف میں کچھ نہ کچھ ضرور حصے دار ہوتی ہے لیکن یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد بالآخر اسلام کی ترقی اور فتح اور احمد بیت کے غلبے کے دن آئیں گے یہ وہ آخری تقدیر ہے جو لازماً ظاہر ہوگی اور وہی دراصل دنیا کا ” نظام نو“ ہے وہ نظام نو نہیں ہے جو صدر بش کے دماغ میں ہے جسے وہ New World Order کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں مگر اس مضمون کو سر دست چھوڑتے ہوئے میں وا پس وہاں آتا ہوں کہ سب سے پہلے موجودہ حالات کی بنیاد 1897ء کے لگ بھگ رکھی گئی۔ظاہری طور پر تو بہر حال 1897ء میں رکھی گئی جب اسرائیل کی حکومت کے قیام کی کوششوں کا اعلان ہوا۔اس کے بعد دوسرا بڑا قدم 1917ء میں ہمیں نظر آتا ہے جبکہ بالفور Balfour نے، بالفور یا بیلفور جو بھی Pronunciation صحیح ہے)، جو انگلستان کے Foreign Secretory تھے ، انہوں نے ایک بہت امیر یہودی انسان کو جو یہودی کمیونٹی کا نمائندہ تھا ، راتشیلڈ Rothschild جو بعد میں لارڈ (Lord) بھی بن گیا یا اس وقت بھی شاید Lord ہی ہو، Lord