خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 835 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 835

خطبات طاہر جلد ۱۰ 835 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۱ء بعض نیک دل مگر سادہ لوح مائیں خود اپنے چھوٹی عمر کے بچوں کو فوجیوں کے سپر د کر دیا کرتی تھیں۔وہ ایک جاہلانہ جنگ تھی۔اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ اسلام دشمنی کی جنگ تھی۔دونوں طرف اسلام دشمنی ہو رہی تھی لیکن اس کے باوجود چونکہ اسلام کا نام استعمال ہور ہا تھا اس لئے ماؤں نے اپنے چھوٹے بچوں کو بھی اس جنگ میں جھونک دیا۔میں جس جنگ کی طرف بلا رہا ہوں وہ اسلام کی جنگ ہے اور خالص اسلام کی جنگ ہے یہ وہ اسلام کی جنگ ہے کہ جو جماعت احمدیہ کے سوا کسی اور نے نہیں لڑنی اور کسی اور کے سپرد نہیں ہے یہ لڑائی اس لئے آج ہر قسم کے پیمانوں میں نرمی کرنے کا وقت ہے جس قسم کے بھی احمدی مہیا ہو سکتے ہیں، جن کو بھی توفیق ہے ان کو چاہئے کہ ان علاقوں میں چلے جائیں۔ان کا جانا ہی بابرکت ہوگا اور ان علاقوں میں بیٹھ کر ان کا دعائیں کرنا ہی بابرکت ہوگا اور یہ کوئی اجنبی بات نہیں ہے امر واقعہ یہ ہے کہ بعض علاقوں میں اسلام کا غلبہ محض ان کے بزرگوں کی دعاؤں کے نتیجہ میں ہوا ہے۔سب سے بڑی طاقتور چیز دعا ہے اور دعا ہی وہ ہتھیار ہے جو اس غیر متوازن جنگ میں کمزوروں کو طاقت وروں پر غالب کرنے والی ہے۔اس لڑائی میں کمزور کی فتح کا یہی راز ہے ورنہ یہ ہو نہیں سکتا قانون قدرت کے خلاف بات ہے۔جب بھی کمزور طاقتوروں سے ٹکراتے ہیں ضرور شکست کھاتے اور ضرور مارکھاتے ہیں۔صرف مذہب کی دنیا میں یہ عجیب واقعہ رونما ہوتا ہے کہ کمزور طاقتور سے ٹکراتا ہے اور طاقتور کو شکست دے دیتا ہے۔شاعروں کی دنیا میں تو ممولے شہباز سے لڑتے ہیں لیکن یہ ایک شاعری کی بات ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں مگر مذہب کی دنیا میں واقعہ ایسا ہوتا ہے۔ایسے ممولے پیدا ہوتے ہیں جو شہبازوں کے پر توڑ دیتے ہیں اور ان کے لشکر کے لشکر کو ہر جہت سے شکست دے دیتے ہیں اور واقعی جب آپ ان کا مقابلہ دنیا کے پیمانوں سے کریں تو ایک طرف حقیقت میں وہ ممولے دکھائی دیتے ہیں اور دوسری طرف واقعی شہباز دکھائی دے رہے ہوتے ہیں۔روما کی سلطنت سے جب چند گنتی کے مسلمان مجاہدین کی ٹکریں ہوئی ہیں اور فارس کی نت سے جب گنتی کے چند مسلمان مجاہدین کی فکریں ہوئی ہیں تو اگر چہ بعض ایسی جنگیں بھی تھیں جو خالصہ جہاد نہیں کہلا سکتی تھیں لیکن مذہبی عناصر کا بہر حال ان میں غلبہ تھا۔مذہبی محرکات یقیناً ان میں غالب تھے اور چونکہ لڑنے والے نیک تھے خدا پرست تھے اور دعا ئیں کرنے والے تھے اس لئے ان