خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 834 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 834

خطبات طاہر جلد ۱۰ 834 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۱ء اور اپنے اعلیٰ اور پاک نمونے سے ان کو بتائیں کہ روحانی انقلاب کیا ہوتا ہے اور روحانی زندگی کس کو کہتے ہیں؟ اس قسم کے پیاسے بھی وہاں موجود ہیں اور مسلمانوں میں خصوصیت کے ساتھ عیسائیت کے مقابل پر یہ رقابت کا جذبہ پیدا ہو رہا ہے اور اس موقعہ سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہئے۔چنانچہ وہ لوگ جنہوں نے مشرقی ریاستوں کے دورے کئے ہیں ان کے بعض مضامین سے مجھے پتہ لگا ہے کہ ان ممالک میں مغربیت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے خلاف ایک شدید رد عمل پیدا ہو چکا ہے اور لکھنے والا لکھتا ہے کہ بہت سے مسلمان جن کو پہلے اسلام سے کوئی بھی تعلق نہیں تھا اور جن کو اب بھی نہیں پتہ کہ اسلام کیا ہے وہ اس رد عمل کے نتیجہ میں مسجدوں میں جانے لگ گئے ہیں اور مسجدوں کی رونق بعض جگہ اتنی بڑھ رہی ہے کہ اگر ایک سال پہلے ایک آدمی جاتا تھا تو اب دس آدمی جاتے ہیں۔تو جہاں عیسائی علاقوں میں عیسائیت اور مغربی تہذیب کی گندگیاں بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہیں وہاں مشرقی علاقوں میں اس کے رد عمل کے نتیجہ میں ہمارے لئے ایک اچھا ماحول بھی مہیا ہورہا رہے اور ایک اچھی سازگار فضا میسر آ رہی ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اب یہ وقت نہیں رہا کہ ہم انتظار کریں کہ زبانوں کے بڑے ماہر علم کے ماہر اور باقاعدہ تربیت یافتہ مربی تیار کر کے وہاں بھیجیں۔یہ اس قسم کا وقت نہیں ہے یہ تو ایسا وقت ہے کہ جب قومی بقا کی خاطر جو کچھ بھی ہے میدان جنگ میں جھونکنا پڑا کرتا ہے، بعض دفعہ بچوں کو بھی بھیجنا پڑتا ہے۔اب عراق ایران جنگ میں آپ دیکھیں کہ ایک وقت ایران پر ایسا آیا تھا جبکہ بالغ لڑنے والے مہیا نہیں ہو سکتے تھے تو انہوں نے عمر کا معیار ڈھیلا کرنا شروع کیا اور کم کرنا شروع کیا یہاں تک کہ آخر ایک وقت ایسا آیا کہ جب میدان جنگ میں بھیجنے سے پہلے نابالغ بچے اکٹھے کئے جارہے تھے اور بعض ایسے منظر ٹیلی ویژن پر یہاں دکھائے گئے جن سے پتہ چلتا تھا کہ مائیں روتی پیٹتی رہ جاتی تھیں اور ان کے بچوں کو چھین کر لے جاتے تھے کہ ان کو ہم شہادت کے لئے تیار کر رہے ہیں اور دائی زندگی بخشیں گے تم کس بات پر رورہی ہو لیکن صرف یہی نہیں بلکہ بعض حیرت انگیز ایسے مناظر بھی دکھائے گئے کہ ایرانی ماؤں نے خود اپنے بچے پیش کئے۔اتنا کثرت سے پروپیگینڈا تھا کہ عراق کے مقابل پر جولڑائی کو جائے گاوہ کفر کے مقابل پر جائے گا اور اگر وہ مارا گیا تو شہید ہوگا کہ